میرے دادا صالح محمد مرحوم نے ایک گھر 2003 میں لیا میرے نانا غلام حسین سے جس کا قرض 50000 بقایا تھا جو کہ مرحوم صالح محمد نے 2019 میں 50000 کی ادائیگی کی، اب نانا غلام حسین کی زوجہ حوا بی بی کی طرف سے تقاضہ ہے کہ مزید پیسے دیے جائیں 2003 میں 50000 کی قیمت آج کے حساب سے کم ہے، اب کیا ان کو پیسے دیے جائیں گے یا نہیں ؟ اور دیے جائیں گے تو کتنے دیے جائیں ؟ رہنمائی کردیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے دادا نے مذکور زمین کے بقایاجات 2019 میں ادا کردیے تو اس سے ان کا ذمہ بری ہوچکا ہے، لہٰذا اب سائل کی نانی کا کرنسی کی قوتِ خرید میں کمی آنے کی وجہ سے دادا سے مزید رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: (قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه) فيه أن الكلام في الكساد، وهو ترك التعامل بالفلوس ونحوها (الی قولہ) وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه،الخ (ج۵، ص۱۶۵، باب الربا، ط۔سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: قولهما أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض، (الی قولہ) ولأبي حنيفة أن رد المثل كان واجبا، والفائت بالكساد ليس إلا وصف الثمنية، وهذا وصف لا تعلق لجواز القرض به.اھ (ج۷، ص۳۹۵، کتاب القرض، ط۔دارالکتب العلمیہ)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0