کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے چند سال قبل کسی بات پر جھگڑ ےکے دوران بیوی سے دو مرتبہ کہا تھا " میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں ، جاؤ اپنی ماں کے گھر " پھر اس کے بعد بیوی اپنے بھائی کے ہاں چلی گئی تھی اور ایک دن بعد پھر واپس آگئی تھی اور ہمارے درمیان راضی نامہ ہو گیا اور ہم میاں بیوی کی طرح حسبِ معمول ساتھ رہنے لگے۔ 27 -04-2024 کو میں نے اپنی بیٹی سے اپنی بیوی کے متعلق کہا میں نے فارغ کر دیا ہے آزاد امیدوار ہے جائے اپنی ماں کے گھر " پھر جب وہ نہیں گئی تو دوسرے دن بیوی سے کہا ” میری طرف سے تو فارغ ہے ، جاؤ“ واضح رہے کہ یہ الفاظ کہتے وقت میری نیت طلاق کی نہیں تھی ، بلکہ اس لئے کہا تھا کہ یہ ماں کے گھر جائے گی ، تو وہاں اس کے گھر والے اسے سمجھائیں گے ، براہِ مہربانی شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
سائل نے جب جھگڑ ےکے دوران اپنی بیوی کو دو مرتبہ یہ الفاظ " میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں ، جاؤ اپنی ماں کے گھر " کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی تھیں ، اور اس کے بعد دورانِ عدت رجوع کرنے کی صورت میں دونوں کا نکاح بدستور برقرار تھا ، البتہ حالیہ واقعہ میں سائل نے جب اپنی بیٹی سے اپنی بیوی کے متعلق یہ کہا کہ "میں نے فارغ کر دیا ہے ، آزاد امیدوار ہے ،جائے اپنی ماں کے گھر " تو اب چونکہ یہ جملہ عند القرینہ طلاقِ بائن کے لئے مستعمل ہوتاہے ، اس لئے مذکور جملہ سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائل کی بیوی ایّامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد ِنکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد ِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ِثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ زوج ِاول دوبارہ اسکے ساتھ عقدِ نکاح کرے ، یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ (سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد )-
و في سنن أبي داود : عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله المحلل، والمحلل له ( باب في التحليل ، ج 2 ، ص 227 ، رقم : 2076 ، ط : المكتبة العصرية، بيروت)-
و في رد المحتار : تحت قوله ( قوله حرام) ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق الخ ( كتاب الطلاق ، باب الكنایات، ج 3، ص 299 ، ط : سعيد)-