کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور اس کی بیوی کی بہت دنوں سے آپس میں لڑائی چل رہی تھی ،ایک دن زید نے اپنی بیوی کو 3مرتبہ کہا کہ تم میرے اوپر حرام ہو ،حرام ہو، حرام ہو ،پوچھنا یہ کہ اب طلاق ہو گئی ہے یا نہیں اگر ہو گئی ہے تو کتنی شمار ہوں گی ؟اگر آپس میں وہ صلح کرنا چاہیں تو نکاح کے ساتھ کر سکتے ہیں یا بغیر نکاح کے یا بالکل ہی بیوی حرام ہو گئی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟
واضح ہو کہ لفظ حرام عرف میں صریح بائن کے لئے استعمال ہو تا ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں جب شوہر (زید)نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ الفاظ "تم میرے اوپر حرام ہو ، حرام ہو ، حرام ہو، کہے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے،چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے نئے مہر کے ساتھ باقاعدہ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا،تاہم نکاح کے بعد شوہر(زید) کے پاس آئندہ کے لئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہو گا،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی ردالمحتار: ومن الألفاظ المستعملۃ،الطلاق یلزمنی والحرام یلزمنی،وعلی الطلاق ،وعلی الحرام فیقع بلانیۃ للعرف(ج3ص252)۔
وفی ردالمحتار:تحت قولہ(الصريح ما لا يحتاج إلى نية)ولأن المراد بالصريح في الجملة الثانية خصوص الرجعي كما تعرفه قريبا، يعني أن المراد بالصريح هنا حقيقته لا نوع خاص منه وهو ما وقع به الرجعي فقط بل الأعم.وأما الكناية الرواجع كاعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة وما ألحق بها فإنها وإن كانت تلحق البائن في ظاهر الرواية بشرط النية لكنها لما وقع بها الرجعي كانت في معنى الصريح كما في البدائع: أي فهي ملحقة بالصريح في حكم اللحاق للبائن، أفاده في البحر.(ج3 ص306)۔