السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہن سے , علاج کے سلسلے میں ریال میں کچھ رقم ادھار لیا اور اس وقت ملک سے باہر تھا فوراً ہی واپس آنا پڑا اور واپسی کے کوئی امکانات نہیں ہیں کمائی بھی اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن بہن کا اب یہ تقاضا ہے کہ اس وقت کے حساب سے جو ریال کے پیسے بنتے ہیں وہ نہیں بلکہ آ ج کے حساب سے جو پیسے بنتے ہیں وہ ادا کیے جائیں , کیا یہ عمل درست ہے ؟اس وقت ریال 28 کا تھا اور آ ج 78 کا ہے ،جبکہ بہن ماشاء اللہ مالدار خاتون ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل نے اپنی بہن سے علاج کے سلسلے میں اگر ریال کی صورت میں قرض لیا ہو تو ایسی صورت میں اب سائل کے ذمہ اپنی بہن کو ریال یا اسکی موجودہ مارکیٹ ویلیو(value) کے حساب سے پاکستانی روپے واپس کرنا لازم ہونگے، چنانچہ سائل کی بہن کا مطالبہ شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ: رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراھم و تصرف بھا، ثم غلا سعرھا، فھل علیہ رد مثلھا؟ (الجواب) نعم ولا ینظر إلی غلاء الدراھم و رخصھا الخ(1/294)
وفی بدائع الصنائع: ولو استقرض فلوسا نافقة، وقبضها فكسدت فعليه رد مثل ما قبض من الفلوس عددا في قول أبي حنيفة وفي قول ابی یوسف و محمد عليه قيمتها (وجه) قولهما أن الواجب بقبض القرض رد مثل المقبوض وبالكساد عجز عن رد المثل لخروجها عن رد الثمنية، وصيرورتها سلعة فيجب عليه قيمتها، كما لو استقرض شيئا من ذوات الأمثال، وقبضه ثم انقطع عن أيدي الناس، ولأبي حنيفة - رحمه الله - أن أثر الكساد في بطلان الثمنية، وأنه لا يمنع جواز الرد بدليل أنه لو استقرضها بعد الكساد جاز ثم اختلفا في وقت اعتبار القيمة على ما ذكرنا، ولو لم تكسد، ولكنها رخصت أو غلت فعليه رد مثل ما قبض بلا خلاف لما ذكرنا أن صفة الثمنية باقية الخ (کتاب البیوع ج 5 صـ 242 ط: سعید)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0