السلام علیکم! محترم جناب مفتی صاحب! میں نے اپنی بیوی کو گھر کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے اسٹامپ پیپر پر طلاق کے دستخط کرکے دیئے تھے، جبکہ میں نے منہ سے طلاق کے الفاظ ادا نہیں کئے، اس کے بعد ہم میاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی تھی، اس وقت میری بیوی حاملہ بھی تھی، آج میرا ایک بیٹا بھی ہے، اس بات کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے، اب آپ سے پوچھنا ہے کہ ہماری طلاق ہوچکی ہے یا نہیں؟ اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ (نوٹ) طلاق نامہ والد صاحب نے بنوائے، اور شہر یار نے اس پر دستخط کردیے،نیز طلاق نامہ تین طلاقوں پر مشتمل تھا۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے ، اسی طرح اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، نیز بیوی کے حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سائل نے جب طلاق نامہ پر اپنی مرضی سے بلاکسی جبر و اکراہ کے دستخط کر دئیے تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت اب ایامِ عدت (یعنی بچے کی پیدائش)کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے بعد فوراً یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دےگا، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے مکر وہ ِ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا س سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
كما في الدر المختار: ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة اھ (ج3،صـــ246،ط:سعید)
وفی التنویر مع الدر: (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء) إلخ (ج3،صـــ232،ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة اھ (ج3،صـــ246،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابہ إلخ (ج3،صـــ246،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: (والكتابة كالخبر) اھ (ج3،صـــ807،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: (قوله: ما لم تكن حاملا) فإن كانت فعدتها الوضع بحر اھ (ج3،صـــ506،ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها اھ (ج2، صـــ92، ط:انعامیۃ)۔