السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
میری شادی میرے کزن سے ہوئی ہے،جب یہ رشتہ آیا تھا میں نے اپنے والدین کو منع کیا تھا،انہوں نے مجھے اموشنلی پریشرائز کرکے اس شادی پر راضی کیا، شادی سے پہلے میری کزن سے بات چیت نہیں تھی کیونکہ وہ باہر ملک میں رہتے تھے،اور آخری دفعہ میں نے انہیں پانچ سال پہلے دیکھا تھا،شادی کے دن ہماری ملاقات ہوئی،ہم اس کے بعد ایک مہینہ ساتھ رہے،لیکن ہمارے ازدواجی تعلقات نہیں بنے،میرے شوہر کی طرف سے انہوں نے کہا کہ جب ساتھ رہیں گےتب کریں گے،پھر وہ واپس کینیڈا آگئے،ہماری بات ہوتی رہی،لیکن ان سے بات کرتے کرتے مجھے احساس ہوا کہ وہ بالکل الگ انسان ہیں مجھ سے،میں نے ان سے بات کرنا کم کردیا،اپنے والدین کو بتایا،انہوں نے کہا جب ساتھ رہیں گےتب سب ٹھیک ہوجائے گا،اب شادی کے دو سال بعد میں کینیڈا آئی،ہم پانچ مہینے سے ساتھ ہیں،میرا ان سے بات کرنے کو،ان کے ساتھ رہنے کو دل نہیں چاہتا،مجھے ان سے بے زاریت ہوتی ہے،وہ کچھ بُرا نہیں کرتے میرے ساتھ،لیکن مجھے اچھے نہیں لگتے وہ، میرا دل ان سے بات کرنے کو نہیں چاہتا،ہمارے ازدواجی تعلقات بھی ابھی تک نہیں بنے ہیں،شروع میں انہیں کچھ مسائل تھے اور اب میرا دل نہیں مانتا،میں اپنے والدین سے کہہ چکی ہوں مجھے علیحدگی چاہیے،میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی،لیکن وہ نہیں مانتے کہ دنیا کیا کہے گی،تمہیں آگے کوئی نہیں ملے گا،طلاق اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے،میں جانتی ہوں لیکن میرا دل اس رشتے پر تیار نہیں ہے،میں اپنے شوہر کے حقوق ادا نہیں کرسکتی پورے دل سے،میں ان سے محبت کرتی ہوں نہ ان کی عزت کرتی ہوں،میرا دل ان سے بات کرنے کو بھی نہیں چاہتا،مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ کے سامنے اس کا جواب بھی میں نے دینا ہےکہ اپنے شوہر کے ساتھ بُرا سلوک کرتی تھی،اور یہ سب چیزیں مجھے دوسرے مردوں کی طرف راغب کرتی ہیں،مجھے لگتا ہے میں کسی اور کو سوچ بھی رہی ہوں تو مجھے گناہ مل رہا ہے،اس سب سے بچنے کےلیے میں اپنے شوہر سے الگ ہونا چاہتی ہوں،کیا آخرت میں جواب میرے ماں باپ نہیں دیں گے،اس سلسلے میں میری راہ نمائی کریں۔شکریہ!
سائلہ نے یہ نہیں لکھا کہ اسے اس رشتے سے انکار اور اس کو نبھانے میں مشکلات کی بنیادی وجہ کیا ہے؟جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہرکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم سائلہ کا شوہر اگر سائلہ کے حقوق ادا کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتا ہو اور اس میں کوئی اخلاقی اورشرعی خرابی نہ ہو،تو سائلہ کا فقط مزاج نہ ملنے کو عذر بنا کر شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ شوہر کو سمجھنے اور اس کے ساتھ نبھاؤ کی کوشش کرے، لیکن اگر کسی صورت نبھاؤ ممکن نہ ہو اور خاندان کے سنجیدہ افرادبھی حالات وواقعات کے پیشِ نظرعلیحدگی مناسب سمجھتے ہوں تو ایسی صورت میں دونوں کے درمیان علیحدگی بھی کروائی جاسکتی ہے۔
کما فی المستدرك على الصحيحين للحاكم (2/ 214)
2794 - حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، ثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا أحمد بن يونس، ثنا معروف بن واصل، عن محارب بن دثار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق» هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، ومن حكم هذا الحديث أن يبدأ به في كتاب الطلاق". [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2794 - بعد تصحيح الحاكم للحديث على شرط مسلم.