اگر شوہر اور بیوی فون پر بات کرتے ہوں اور بیوی شوہر سے بار بار کہے کہ" مجھے طلاق دو، مجھے طلاق دے دو "، تو شوہر غصے میں آ کر بیوی سے کہہ دے کہ "میں تمہیں اس نکاح سے آزاد کرتا ہوں" بیوی نے کہا ۳ بار کہو، تو شوہر نے کہا " آزاد کرتا ہوں ،آزاد کرتا ہوں" پھر میسج پر بھی لکھ کر بھیج دیا کہ " آزاد ہے، آزاد ہے آزاد ہے" تو کیا بیوی کو طلاق ہو جائے گی ؟اب کیا حکم ہے کہ بیوی عدت کے بعد اُس سے لکھت پڑھت کے بغیر کہیں اور نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ شوہر کا بیوی کو اس طرح کے الفاظ، یعنی " آزاد کرتا ہوں یا آزاد ہے" کہنا چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے اس سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب بیوی کو مذکور الفاظ" میں تمہیں اس نکاح سے آزاد کرتا ہوں "ایک مرتبہ کہے تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھی،جسکے بعد شوہر کو دورانِ عدّت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،اور آئندہ کیلئے اسکے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار باقی تھا،لیکن شوہر نے دوبارہ مذکور الفاظ" آزاد کرتا ہوں ،آزاد کرتا ہوں "کہے تو اس سے بیوی پر دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اورعورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع : كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك " (5264)۔
و فی الدرالمحتار : كرر لفظ الطلاق وقع الكل، و إن نوى التأكيد دين ۔ (3/293)۔
--ٓو فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299)۔
و فیه ایضاً : المختلعة يلحقها صريح الطلاق إذا كانت في العدة، اھ (3/307)۔