السلام علیکم!
مفتی صاحب مجھے طلاق کے ایک مسئلہ میں تحریری فتوی چاہئیے ,میرے بہنوئی کا اپنی بہن کے ساتھ کوئی جھگڑا تھا، ان کے گھر ساتھ ساتھ ہیں، درمیان میں ایک چھوٹی سی دیوار ہے، تو میرے بہنوئی نے غصے میں آ کر اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا کہ "آج کے بعد اگر میرا بچہ میری اس بہن کے گھر گیا تو، تو مجھ سے آزاد ہے" اس سے اگلے ایک دو دن میں اس کا بچہ اس کی بہن کے گھر چلا گیا تو کیا اس صورت میں میری بہن کو طلاق واقع ہو چکی ہے؟ حالانکہ میری بہن ابھی تک اسی خاوند کے ساتھ کچھ عرصہ سے رہ بھی رہی ہے، اور اگر طلاق ہو چکی ہے، اور میری بہن کو ہم وہاں نہ بسانا چاہیں تو اس معاملے میں وہ دوسری جگہ پر نکاح کرنے میں آزاد ہے؟جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔ جزاک اللہ
واضح ہوکہ لفظ آزاد ہمارے عرف میں طلاق کے معنی میں صریح ہے، اور اس سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کے بہنوئی نے مذکور الفاظ "آج کے بعد اگر میرا بچہ میری بہن کے گھر گیا، تو تو مجھ سے آزاد ہے" ایک بار کہے ہوں تو اس سے بیوی (سائل کی بہن) پر ایک طلاق ِرجعی معلق ہو چکی تھی، چنانچہ اس تعلیق کے بعد جب اس کا بچہ اگلے ایک دو دنوں میں شوہر کی بہن کے گھر گیا ہو، تو اس جانے سے بیوی (سائل کی بہن) پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی، اور شوہر کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، اب اگر سائل کے بہنوئی نے دورانِ عدت قولاً جیسے:"میں تم سے رجوع کرتاہوں" کے الفاظ کہہ کر , یا عملاً مثلاً بوس وکنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے رجوع کرلیا ہو، تو یہ رجوع درست ہوکر ان کانکاح حسبِ سابق برقرار ہے، اور اس کے بعد سائل کی بہن کا دوسری جگہ نکاح شرعاً درست نہ ہوگا، تاہم آئندہ کیلئے خاوند کو فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا، اس لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی رد المحتار: فان سرحتک کنایۃ لکنہ فی عرف الفرس غلب استعمالہ فی الصریح فاذا قال "رھا کرم" ای سرحتک یقع بہ الرجعی مع ان اصلہ کنایۃ ایضا الخ (ج3 صـ299 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل: ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق الخ (ج1 صـ420 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔