السلام علیکم! بیوی سے کچھ اختلافات تھے، موبائل پر میسج کے ذریعہ بات ہو رہی تھی ، اس کی مسلسل زبان درازی پر مجھے شدید غصہ آرہا تھا اور غصے میں میں نے اس کو طلاق طلاق طلاق لکھا ، صرف لفظ لکھا آگے پیچھے نہیں لکھا، خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میری کبھی یہ نیت اور ارادہ نہیں رہا اور نہ اُس وقت نیت تھی کہ میں اپنی بیوی کو چھوڑ دوں لیکن یہ غلطی سرزد ہوگئی، علماء کی رائے چاہیئے کہ طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ہوئی؟اگر کوئی کفارہ ادا کرنا ہے تو براہِ مہربانی بتادیں ، علماء کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا ، دعا گو ۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کےلئے بیوی کا نام لینا یا اس کی طرف صریح نسبت کرنا ضروری نہیں، بلکہ معنوی نسبت کے پائے جانے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا سائل نے اپنی بیوی سے بذریعۂ میسج بات چیت اور اس کی زبان درازی پرغصہ ہونے کی وجہ سے” طلاق طلاق طلاق “ کے الفاظ لکھ کر بھیج دئیے ہوں تو اس میں دلالتِ حال اور معنوی نسبت پائے جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الشامیۃ: ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اهـ. (ج3،صـــ248،ط:سعید)۔
وفیھا ایضاً تحت: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة اھ (ج3،صـــ246،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: (والكتابة كالخبر) اھ (ج3،صـــ807،ط:سعید)۔
وفي الفتاوی الھندية: إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔