السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاتہ! مسئلہ برائےطلاق: سب کے بیان کی سگنیچر والے اوراق کی اسکین کاپیاں آخر میں لگا دی گئی ہیں۔
شوہر کا بیان: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، میں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا، جب جھگڑا بڑھ گیا، اور میری ساس گھر میں سے سامان نکالنے لگ گئی، تو اس کے اس عمل پر میں نے دھمکی کے طور پر اپنی ساس کو کہا کہ "کھڑو میں طلاق ڈیناں(ٹھہرو میں طلاق دیتا ہوں)"( لیکن میں نے طلاق نہیں دی) جب اس سے بھی کوئی سکون نہ ہوا، تو میں نے ایک اور بات کہی" اب میں اپنے پورے ہوش و حواس میں بات کرنے لگا ہوں ،نادیہ (میری بیوی ہے ) ادھر سنو نادیہ، ادھر سنو،"اتنا ہی کہنے پر میرے ساتھ کھڑے بندے نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اس کے بعد میں وہاں سے چلا گیا، اگر میں نے اپنے اس بیان میں غلط بیانی کی ہو، تو اللہ کے ہاں اور قانون کی نگاہ میں، میں خود ذمہ دار ہونگا، آیا ان الفاظ کے کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو کون سی ہوئی، دوبارہ کس طرح رشتہ جوڑا جا سکتا ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں تفصیلی جواب دیجیئے، اللہ جزائے خیر دے۔
بیوی کا بیان: میں مسماۃ نادیہ منظور، دختر منظور حسین، وجیہہ الدین کی بیوی، اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور اس کے نام کا حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ دورانِ جھگڑا میری والدہ الماری سے زیور اٹھانے لگی، تو میرے شوہر نے میری والدہ کو مخاطب کر کے کہا" زیور نہ چا بس میں اینکوں طلاق ڈینداں(زیورنہ اٹھاؤ بس میں اس کو طلاق دیتا ہوں)" اسے لے جاؤ والدہ نے کہا! ہاں ہاں طلاق دیدے، اس پر عبدالصبور میرے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھ کر باہر لے گیا، اس کے علاوہ کوئی اور الفاظ نہیں کہے، البتہ اس جھگڑے کے ایک ماہ بعد میسج پر بات ہوئی، میں نے کہا مجھے لے جاؤ میں واپس آنا چاہتی ہوں، تو میرے شوہر نے کہا میں نے آپ کو طلاق نہیں دی، نہ دیتا ہوں تو گھر آجا، اگر میں نے اپنے اس بیان میں غلط بیانی کی ہو تو اللہ کے ہاں اور قانون کی نگاہ میں، میں خود ذمہ دار ہونگی۔
ساس کا بیان: وجیہہ الدین کی ساس (نسرین گل) اللہ کو حاضر ناظر جان کر اور اس کے نام کا حلف اٹھا کر کہتی ہوں کہ میرے داماد، وجیہہ الدین نے دوبار یہ الفاظ کہے "خالہ میں تیڈی دھی کو طلاق ڈینداں اینکوں گھن ونج (خالہ میں تیری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں اسے لے جاؤ)" خالہ اپنی بیٹی کے سامان کو بھی لے جاؤ جب تک کمرے میں سامان پڑا ہوا ہے، میں گھر نہیں آؤں گا، اگر میں نے اپنے اس بیان میں غلط بیانی کی ہو تو اللہ کے ہاں اور قانون کی نگاہ میں، میں خود ذمہ دار ہونگی۔
گواہ کا بیان: میں محمد عبدالصبور حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میرے سامنے جتنی دیر جھگڑا رہا، وجیہہ الدین کامران نے جہاں تک مجھے یاد ہے، لفظ طلاق دو سے تین مرتبہ استعمال کیا، جو کہ باتوں باتوں میں اپنی ساس سے کہتا رہا، میرے غالب گمان کے مطابق وہ لفظ طلاق بطور دھمکانے اور ڈرانے کیلئے استعمال کر رہا تھا نہ کہ طلاق دینے کے لئے کیونکہ میرے غالب گمان کے مطابق وہ اس طرح کے الفاظ کہتا تھا کہ "اگر ان کو طلاق کا شوق ہے، تو جب میں ان کو طلاق دوں گا تو پھر پتہ چلے گا" جھگڑے کے دوران وجیہہ الدین نے باہوش وحواس کے الفاظ بھی استعمال کیے ، وجیہہ الدین نے ایک مرتبہ باہوش و حواس کے الفاظ کہے، اور دوسری مرتبہ کہے، اور پھر جب تیسری مرتبہ با ہوش و حواس کے الفاظ کہے، تو باہوش و حواس تک ہی پہنچا تھا کہ میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، مجھے خوف ہوا کہ با ہوش وحواس کے آگے لفظ طلاق یا طلاق سے متعلقہ کوئی بات نہ کہہ دے، کیونکہ ابھی تک وجیہہ الدین نے جتنی مرتبہ باہوش وحواس کے الفاظ استعمال کیے تھے، ان کے متصل لفظ طلاق یا طلاق سے متعلقہ کوئی بات نہ کہی تھی، بلکہ وجیہہ الدین باہوش وحواس کے متصل کوئی اور بات کہہ رہا تھا، جو کہ مجھے یاد نہیں ہے، لیکن یہ بات میرے ذہن میں نقش ہے کہ اس نے باہوش وحواس کے متصل لفظ طلاق یا طلاق سے متعلق کوئی بات نہیں کہی، اور پھر میں عبدالصبور وجیہہ الدین کو دھکیل کر اپنے گھر لے آ یا، اور میں واپس وجیہہ الدین کی ساس اور بیوی کے پاس وجیہہ الدین کے گھر چلا گیا کہ مکمل احوال اس کی ساس اور بیوی سے پوچھوں، جب میں وہاں گیا تو اس کی ساس رونے لگی، اور مجھ سے کہنے لگی کہ عبدالصبور میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جاتی ہوں، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ وجیہہ الدین دوبارہ واپس آکر میری بیٹی کو مارے گا، لہذا اس لئے میں اپنی بیٹی کو ساتھ لے جاتی ہوں، میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ نہ جائیں، لیکن وجیہہ الدین کی ساس نے کہا کہ نہیں مجھے ڈر لگتا ہے وہ واپس آ کر میری بیٹی کو مارے گا، میں نے کہا کہ نعمان آجائے تو اس سے بات کر کے پھر چلی جائیے گا، انہوں نے کہا ٹھیک ہے پھر میں اپنے گھر چلا آیا اور وہ نعمان کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ نعمان آئے تو میں اس کو جھگڑے کے احوال سناؤں، اور اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر جاؤں، جب میں اپنے گھر پہنچا تو وہاں وجیہہ الدین اس کی پھوپھی عبدالصبور کی بیوی، اور وجیہہ الدین کی دادی موجود تھیں، بقول وجیہہ الدین کی پھوپھو کے، وجیہہ الدین نے اسے کہا کہ میری خالہ کو بڑا شوق ہے طلاق کا، کہتی ہے میری بیٹی کو طلاق دیدو ، میرا دل کہتا ہے کہ میں ان کی خوشیاں برباد کر دوں، کیونکہ انہوں نے میری خوشیاں برباد کی ہیں، اس بات پر پھوپھو نے کہا تو کیسے ان کی خوشیاں برباد کرے گا، تو وجیہہ الدین نے کہا کہ میرا دل کہتا ہے کہ، میں اس کی بیٹی کو بارات والے دن ایک طلاق دوں گا، لیکن اس کی دادی نے کہا کہ اگر تو اپنی بیوی کو طلاق دے گا، تو پھر میرے گھر سے نکل جا پھر وجیہہ الدین خاموش ہو گیا اور رونے لگا۔
سوال میں میاں بیوی کے بیانات میں سرائیکی زبان کے الفاظ کا جو ترجمہ کیا گیا ہے، اردو عرف اور محاورے میں اس نوعیت کے الفاظ مستقبل میں کسی کام کو کرنے کے ارادے کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں، چنانچہ سرائیکی زبان میں بھی اگر یہ الفاظ اسی طرح استعمال ہوتے ہوں اور شوہر کی نیت اور ارادہ بھی ان الفاظ سے مستقبل میں طلاق دینے کا ہو، جیساکہ کلام کا سیاق وسباق اور موقع پر موجود گواہ محمد عبدالصبور کے حلفیہ بیان سے اسکی تائید ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں شرعاً بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم اگر مقامی مفتیان کرام سے بھی مسئلہ کا حکم معلوم کیا جائے تو بہتر ہوگا۔
جبکہ سوال میں شوہر کی ساس کا جو بیان درج ہے اس میں طلاق کے الفاظ کاجو ترجمہ کیا گیا ہے، وہ اگرچہ وقوع طلاق کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن اگرمیاں بیوی کو اسکے بیان پر اعتماد نہ تو شرعاً اسکے بیان کا کوئی اعتبار نہیں۔
کمافی الھندیۃ: (سأطلق) لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک وفی المحیط لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا الخ (ج1 صـ384 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: أخبر أن فلانا طلق امرأتك فقال نعم ما صنع أو بئس ما صنع قيل في الأول يقع وفي الآخر لا يقع هو الظاهر والمأخوذ به كذا في جواهر الأخلاطي الخ (ج1 صـ394 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفی البحر الرائق: ثم اعلم أن المراد بالصحة في قوله إنما يصح اللزوم فإن التعليق في غير الملك، والمضاف إليه صحيح موقوف على إجازة الزوج حتى لو قال أجنبي لزوجة إنسان إن دخلت الدار فأنت طالق توقف على الإجازة فإن أجازه لزم التعليق فتطلق بالدخول بعد الإجازة لا قبلها، وكذا الطلاق المنجز من الأجنبي موقوف على إجازة الزوج فإذا أجازه وقع مقتصرا على وقت الإجازة،الخ ج4 صـ6 باب التعلیق فی الطلاق)۔