تین سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دی تھی، ابھی ہم دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں،اس کا ممکنہ حل کیا ہے؟ براہ مہربانی اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
سائل نے اگر اپنی بیوی کو تین سال قبل صریح الفاظ میں ایک طلاق رجعی دینے کے بعد دورانِ عدت رجوع نہ کیاہو اور عدت مکمل ہوگئی ہو، تو سائل کا نکاح اپنی بیوی سے ختم ہوچکا ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن گئے ہیں، اب اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہے، تاہم آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ الخ (ج3 صـ409 کتاب الطلاق، باب الرجعۃ ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا الخ (ج3 صـ180 کتاب الطلاق باب الرجعۃ ط: دار الکتب العلمیۃ)۔