السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گھر میں اکثر وبیشتر لڑائی جھگڑا رہتا تھا، ابھی آخری بار بھی لڑائی جھگڑا ہوا تو میں نے غصے میں اپنی بیوی کو کہا کہ " اگر آج کے بعد تم نے مجھ پر الزام لگایا یا شک کیا تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا" یہ جملہ میں نے دوبارہ بولا ہے، اب اس جملہ کہنے سے میری بیوی پر کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: سائل کی بیوی سے فون پر بات ہوئی تھی وہ بھی شوہر کے مذکور جملہ کہنے کی تصدیق کر رہی ہے، جبکہ لڑائی کے وقت ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سےکام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل نے لڑائی جھگڑے کہ نتیجے میں اپنی زوجہ کو مذکور الفاظ "اگر آج کے بعد تم نے مجھ پر الزام لگایا یا شک کیا تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا" دو بار کہے ہوں، تو چونکہ یہ الفاظ انشاءِ طلاق نہیں بلکہ فقط وعدۂ طلاق اور طلاق کی دھمکی پر مشتمل ہیں اس لئے ان الفاظ کے استعمال سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم آئندہ کیلے طلاق کےالفاظ استعمال کرنے میں سائل کو خوب احتیاط کرنی چاہیئے تاکہ بعد میں ندامت و پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
کما فی الھندیۃ: طلاق میکنم طلاق میکنم و کرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک وفی المحیط لو قال بالعربیۃ أطلقک لا یکون طلاقا إلا إذا غلب استعمالہ للحال الخ (کتاب الطلاق ج1 صـ 384 ط: ماجدیۃ)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی و یا مطلقۃ بالتشدید، وکذا المضارع إذا غلب فی الحال الخ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 348 ط: سعید)
وفی الدر المختار: بخلاف قولہ طلقی نفسک فقالت أنا طالق او أنا أطلق نفسی لم یقع لأنہ وعد جوھرۃ الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 319 ط: سعید)