،السلام علیکم! مفتی صاحب (امریکا سے ایک بہن کی درخواست ہے)بہن کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں ، جس عورت سے میرےشوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اس لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ پہلی بیوی کو طلاق دینی ہوگی ، لیکن شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا ہے ، امریکا کے قانون کے مطابق دو شادیوں کی اجازت نہیں ہے ، اور میرے شوہر کہہ رہے ہیں کہ قانون کے مطابق ہم کاغذی طلاق نامہ بنائیں گے اور میں آپکو چھوڑونگا نہیں ،سوال یہ ہے کہ اگر کاغذی طلاق نامہ بنوالے اور میاں بیوی دونوں دستخط کرلیں طلاق نامہ پر اور زبان سے طلاق کے الفاظ نہ بولے تو طلاق ہو جاتی ہے کیا ؟ اور شوہر بھی اپنی بیوی سے یہ بول رہا ہے کہ میں آپ کو طلاق نہیں دونگا ، یہاں کے قانون میں دو شادیوں کی اجازت نہیں ہے ، اس لئے میں یہ کاغذی طلاق نامہ بنوانا چاہتاہوں اور میں تمہیں طلاق نہیں دونگا ، اس طرح اس کی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی یا نہیں ؟ اس کی تفصیل بیان کیجیئے۔
سائلہ کے شوہر اگر دونوں بیویوں کے درمیان عدل وانصاف اور دونوں کے حقوق اداکرنے پرقادر ہو تو اس کے لئے دوسری شادی کرنا شرعا جائز ہے ، جبکہ قانونی مجبوری کی وجہ سے اگر فرضی طلاق نامہ تیار کرانے کا ارادہ ہو ، پہلی بیوی کو طلاق دینا مقصود نہ ہو تو وقوع طلاق سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ طلاق نامہ تیار کروانے سے قبل دو گواہان کی موجودگی میں اس بات کا اظہار کر دیا جائے کہ شوہر کا مقصد طلاق دینا نہیں ہے ، بلکہ قانونی مجبوری کی بنا پر طلاق نامہ تیار کیا جا رہا ہے اور زبان سے الفاظ طلاق ادا نہ کیے جائیں تو اس طرح فرضی طلاق نامہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔
کما فی رد المحتار :تحت(قولہ او ھازلا)فیقع قضاء ودیانۃ (الی قولہ)ثم نقل عن البزازیۃ والقنیۃ:لو اراد بہ الخبر عن الماضی کذبا لا یقع دیانۃ وان اشھد قبل ذلک لا یقع قضاء ایضا الخ(ج 3 ص 238 ط: سعید)۔