کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ نسرین بی بی بنت رحمٰن ولی کا نکاح آج سے تقریباً بیس(20) سال قبل ارشد ولی ولد دیدار ولی کے ساتھ ہوگیا تھا ، اس نکاح سے ہمارے چار بچے بھی ہیں ، ہماری شادی شدہ زندگی میں کئی بار طلاق کا لفظ بولا گیا ہے جو ہمیں صحیح طریقہ سے یاد نہیں ہے ، لیکن اس دوران ہمارے درمیان کبھی جدائی نہیں رہی بلکہ ہم بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے رہے ہیں، ابھی گزشتہ ہفتہ کے دن پھر گھر میں لڑائی جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے چار(4) مرتبہ مجھے طلاق کے الفاظ بول دیے ہیں، کہ " تم مجھ پر طلاق ہو ، تہ پہ ما طلاقہ یے " موقع پر موجود شوہر کے بھتیجے اعجاز احمد کا بھی یہی بیان ہے کہ چار مرتبہ یہی مذکورہ الفاظ بولے گئے ہیں ، شوہر ارشد ولی کابیان یہ ہے ہاں میں نے غصہ میں طلاق کے الفاظ بولے ہیں ، لیکن یہ یاد نہیں ہے کہ کتنی مرتبہ بولے ہیں ،اور نہ ہی میں اپنی بات پر قسم اٹھا سکتا ہوں ،جبکہ نسرین بی بی اور اعجاز اور ایک نسرین بی بی کا بھائی ان کا بیان حلفی ہے کہ چار مرتبہ طلاق کے الفاظ مذکورہ بولے ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ، اور اگر ہم بچوں کی خاطر میاں بیوی کے تعلقات کے بغیر ایک ہی گھر (جو کہ دو کمروں کا فلیٹ ہے ) میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو بچوں کے اخراجات مہر وغیرہ کے متعلق تفصیل تحریر فرمائیں ۔
سائلہ کے بیان کے مطابق اس آخری جھگڑے سے قبل بھی شوہر نے مختلف موقع پر آزاد کے الفاظ کے ساتھ تین سے زائد مرتبہ طلاق دیدی ہے ، جس کے متعلق شوہر کے انکار یا اقرار کا کوئی ذکر نہیں ، تاہم حالیہ جھگڑے کے دوران سائلہ کے بیان کے مطابق شوہر نے اسے ان الفاظ " تم مجھ پر طلاق ہو ، تہ پہ ما طلاقہ یے " کے ساتھ چار مرتبہ طلاق دیدی ہے ، اور اس کے دعوی پر دو بندے " شوہرکا بھتیجا اور سائلہ کا بھائی " بطور گواہ بھی موجود ہیں، جبکہ شوہر اس دعوی کا انکار بھی نہیں کر رہا ، اس لئے بیوی پر حالیہ واقعہ میں دی جانے والی طلاقوں میں سے تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، اس لئے میاں بیوی پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے ، اور عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، تاہم اگر سائلہ اپنے بچوں کی خاطر اس گھر میں رہنا چاہتی ہو اس طور پر کہ اس کا گھر میں رہتے ہوئے سابقہ شوہر کے ساتھ کسی قسم کا تعلق اور رابطہ نہ ہوگا ، بلکہ ایک اجنبی عورت کی طرح فقط اپنے بچوں کی ماں بن کر مکمل شرعی پردے کی رعایت رکھتے ہوئے رہائش اختیار کریگی تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اس طرح رہائش اختیار کرنے کی صورت میں چونکہ فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ بہر حال برقرار رہتا ہے ، اس لئے اس سے بھی حتی الامکان احتیاط ضروری ہے ، میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ان بچوں کی والدہ ہوتی ہے ، بشرطیکہ وہ اس حق سے دستبردار نہ ہو یا بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ، اور اس دوران بچوں کی پرورش پر آنے والے تمام اخراجات بچوں کے والد کے ذمہ لازم ہوں گے ، اسی طرح اگر سائلہ کا حق مہر ابھی تک ادا نہ کیا ہو ، تو اب طلاق کی صورت میں سابقہ شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی بھی لازم ہوگی ۔
قال اللہ تعالی: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ( سورۃ البقرۃ آیۃ)۔
وفی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ ( ج3 ص 286 باب الطلاق غیر المدخول بہا ط سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( ج 3 ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید )۔
وفی الدر المختار : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب.(الی قولہ) (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.الخ ( ج3 س 566 باب الحضانۃ ط سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد (الی قولہ ) فإن أبى أن يكتسب وينفق عليهم يجبر على ذلك،( الی قولہ) الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، وان لم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة الخ ( ج 1 ص 562 الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد ط ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: وإذا طالبت المرأة بالمهر يجب على الزوج تسليمه أولا؛ لأن حق الزوج في المرأة متعين، وحق المرأة في المهر لم يتعين بالعقد، وإنما يتعين بالقبض فوجب على الزوج التسليم عند المطالبة ليتعين كما في البيع الخ ( ج2 ص 288 کتاب النکاح فصل وأما بیان مایجب بہ المھر ط سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإذا خلا الرجل بإمراتہ ولیس ھناک مانع من الوطء ثم طلقھا فلھا کمال المھر الخ ( ج 3 ص 56 کتاب النکاح باب المھر )۔