سوال: مسجد میں افطار کرانا کیسا ہے؟
سوال: چندہ جمع کیا گیا افطار کرانے کے لئے روزے داروں کا , اس میں بغیر روزے دار شامل ہو جائیں اور غیر مسلم شامل ہو جائیں اور یہ افطار بھی مسجد میں کرایا جا رہا ہو؟
سوال:کیا مسجد میں کھانا پینا بغیر نیت کے حرام ہے؟سوال:مسجد کی چھت پر افطار کروانا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں اور یہ عبادت اور اللہ تعالیٰ کی بندگی بجا لانے کے لئے ہوتی ہیں، ان میں دعوتوں کا اہتمام کرنا مساجد کے وقار اور عظمت کے خلاف ہے، لہذا مسجد انتظامیہ یا کسی فرد کا ذاتی رقم سے یا لوگوں سے چندہ کرکے مسجد میں معتکفین کے علاوہ عام لوگوں کے لئے افطار کی عمومی دعوتوں کا اہتمام کرنا اور عام لوگوں کو بلاضرورت مسجد میں کھانا کھلانا مکروہ ہے اس لئے مسجد کے ہال اور چھت سمیت شرعی مسجد کے کسی بھی حصہ میں بلاضرورت کھانے پینے سے حتی الامکان اجتناب اور مسجد کے حدود سے باہر کسی متبادل جگہ پر اس کا انتظام کرنا چاہیئے ، تاہم اگر کسی مسجد میں معتکفین کے لئے افطار وغیرہ کا انتظام کیا گیا ہو اور غیر معتکفین کے لئے شرعی مسجد سے باہر کھانے کی کوئی متبادل جگہ نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں عام لوگوں کا معتکفین کے ساتھ افطار میں شرکت کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ مسجد کے تقدس اور اس کی صفائی ستھرائی کا پورا خیال رکھا جائے، البتہ غیر معتکفین بھی اگر اس دوران اعتکاف کی نیت کرکے شرکت کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے تاکہ کوئی کراہت باقی نہ رہے، اسی طرح جو غیر مسلم ظاہری اعتبار سے پاک ہوں تو وہ اگر دیگر مسلمانوں کے ساتھ بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہوکر افطار میں شرکت کرلیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله وخص المعتكف بأكل إلخ) أي في المسجد والباء داخلة على المقصور عليه بمعنى أن المعتكف مقصور على الأكل ونحوه في المسجد لا يحل له في غيره، ولو كانت داخلة على المقصور كما هو المتبادر يرد عليه أن النكاح والرجعة غير مقصورين عليه لعدم كراهتهما لغيره في المسجد، واعلم: أنه كما لا يكره الأكل ونحوه في الاعتكاف الواجب فكذلك في التطوع كما في كراهية جامع الفتاوى ونصه يكره النوم والأكل في المسجد لغير المعتكف وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاءاهـ. (باب الاعتکاف، ج 2، ص 448، ط: سعید)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا) (باب الولیمۃ، ج2، ص963، رقم الحدیث 3222، ط: المکتب الاسلامی)۔