کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری بہن ہمارے گھر پر آئی ہوئی تھی ، گلی میں لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میرے بہنوئی نے کہا کہ "میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے ، طلاق دیدی ہے، اب میں اس کو اپنے پاس نہیں رکھونگا " پھر بڑوں نے اس کو بلایا سمجھانے کیلئے تو اس نے کہا کہ "میں نے فارغ کر دیا ہے ، وہ میری بہن ہے، پھر تیسری بار اس نے کہا کہ "میں نے طلاق دیدی ہے، بس اب ختم" مذکور واقعہ میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں، کیا رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے بہنوئی نے مذکو ر الفاظ " میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے ، طلاق دے دی ہے " کہہ دیے ہوں اور تیسری بار مذکور الفاظ " میں نے طلاق دے دی ہے " کہہ دیے ہوں تو اس سے سائل کی بہن پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى ) –
و في الفتاوى الهندية : ولو قال لها لانكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى الخ ( الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج ۲، ص 243 : رشيدية )-
و في المبسوط للسرخسي : ولو قال بعد الخلع أو التطليقة البائنة لها في عدتها أنت طالق عندنا يقع الطلاق عليها الخ ( باب ما يقع به الفرقة مما يشبه الطلاق ،ج 6، ص 83، ط : مطبعة السعادة، مصر) –
و في رد المحتار: فقد استدلوا على لحوق الصريح البائن بقوله تعالى : فلا جناح عليهما فيما افتدت به الخ (كتاب الطلاق ، ج ۳، ص 308 ط : مكتبة ومطبعة مصطفی ، مصر)-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد ) –