کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
میری دو بیویاں ہیں ، ایک جاپانی ہے اور ایک پاکستانی ہے ، جبکہ جاپانی قانون اور وہاں کے نادرا رجسٹریشن کے حساب سے ہم ایک ہی بیوی رکھ سکتے ہیں ، اب وہاں کی نیشنلٹی ملنے کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے نادرا رجسٹریشن سے ایک بیوی کا نام نکالنا پڑیگا، میری پاکستانی بیوی سے چار بچے ہیں اور جاپانی بیوی سے ایک بچہ بھی نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ مجھے خود سمیت بچوں کیلئے بھی پاسپورٹ اور نیشنلٹی چاہیئے تو یہاں کے لوگوں نے بتایا کہ میں پاکستانی بیوی کو اپنے پاس رکھوں اور جاپانی بیوی کا نام نادرا سے نکال دو، اس کیلئے آپکو چاہیئے کہ یہاں کہ طلاق نامہ پر آپکو مہر (دستخط)لگانی پڑیگی، تو سوال یہ ہے کہ اس طرح دباؤ کی صورت میں اگر میں طلاق کا لفظ استعمال کیے بغیر مہر لگالوں تو کیا طلاق واقع ہوجائیگی؟ مجھے صرف قانونی طور پر اسکا نام نکالنا ہے، اور کیا نکاح کو برقرار رکھنے کی کوئی صورت رہیگی یا طلاق ہر حال میں ہوگی، ایسی صورت حال میں میں کیا کروں ؟ جواب دیکر عنداللہ ماجور ہو
صورتِ مسئولہ میں مذکور ملک کے قانون کے مطابق اگر واقعۃْ ہی ایک وقت میں دو بیویاں رکھنے کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں طلاق کی نیت کیے بغیر فقط قانونی کاروائی کی تکمیل کیلیے طلاق نامہ یا قانونی دستاویزات پر دستخط کرنے سے قبل اگر سائل دو افراد کو اس بات پر گواہ بنائے کہ وہ ان کاغذات پر جو دستخط کررہا ہے اس سے اسکی نیت طلاق دینے کی نہیں بلکہ محض قانونی طور پر مذکور جاپانی بیوی کانام نادرا کے ریکارڈ سے خارج کر نے کیلئے قانونی کاروائی کی تکمیل ہے ، چنانچہ اس طرح كرنےکے بعد دستخط کرنے سے سائل کا مقصد بھی حاصل ہوگا اور اس کی بیوی پر طلاق بھی واقع نہ ہوگی ۔
کما فی الدر المختار مع رد المحتار للعلامۃ ابن عابدین : ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة اه
وفي حاشية بن عابدين تحت (قوله أو هازلا )(إلى قوله) وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا فقال في البحر، وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا. اهـ. ويمكن حمل ما في الخانية على ما إذا أشهد أنه يقر بالطلاق هازلا ثم لا يخفى أن ما مر عن الخلاصة إنما هو فيما لو أنشأ الطلاق هازلا. وما في الخانية فيما لو أقر به هازلا فلا منافاة بينهما. قال في التلويح: وكما أنه لا يبطل الإقرار بالطلاق والعتاق مكرها كذلك يبطل الإقرار بهما هازلا، لأن الهزل دليل الكذب كالإكراه اه (3/238)