کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں چار سال جیل میں رہا ، میرے پیچھے میری بیوی اور بھابھی کی لڑائی ہوئی ، ہمارا گھر ڈبل فلور ہے ، جب میں جیل سے آیا تو بھائی اور بھابھی نے تین چار دن تک مجھے نیچے ہی رکھا اور لڑائی کی وجوہات بتائیں ، جس کی وجہ سے میرا ذہن بیوی سے بد ظن ہوگیا ، میں اوپر گیا اور بیوی کو اس کی خالہ کے گھر میں چھوڑ دیا اور یہ جملہ " تم مجھ پر ایک بار نہیں ، دو بار نہیں، تین بار طلاق ہو " کہا ، اب یہ جملہ کہنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ رجوع کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں ؟ ,
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " تم مجھ پر ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، تین بار طلاق ہو "کہہ دیے تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہِ تحریمی ہے ، اور اس پر احادیثَِ مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ الایۃ(بقرۃ۔آیۃ 230)۔
وفی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (فصل۔حکم الطلاق الثلاث ۔ج 3 ص 187)۔
وفی الدر المختار: (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) يا زانية (ثلاثا) (الی قولہ) (وقعن) لما تقرر انہ متی ذکر العدد کان الوقوع بہ الخ(ج 3 ص 284 ط:سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0