ہماری شادی کو تقریباً (13) سال کا عرصہ بیت چکا ہے ، گھریلو تنازعات کا آغاز (2019) میں شروع ہوا اور(2020) میں پہلی دفعہ میری بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا مگر میں نے ایسا کرنے سے گُریز کیا اور دسمبر (2020) میں ہماری علیحدگی ہوگئی اور ہم دونوں الگ الگ زندگی گزار رہے ہیں ، (2020) سے اب تک کئی مرتبہ ہم دونوں کے بیچ تنازعات کو ختم کرنے پر بحث مباحثہ ہوتا رہا مگر ہم کسی فیصلے پر نہیں آسکے ، (10) جنوری (2024) کو میں نے تین طلاق پر مشتمل طلاق نامہ وکیل کے ذریعے بھیجوادیاتھا ، جو (13) فروری کو موصول ہوگیا تھا ،اب میرے سسرال سے بہت زیادہ معافی تلافی کے بعد اور میرے سسر کی دل کی بیماری اس مسئلے کی وجہ سے شدت اختیار کر گئی ہے ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک آخر ی مرتبہ موقع دیتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنا چاہیئے ، طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے علاوہ میں نے کبھی بول کر طلاق نہیں دی ، آپ حضرات سے درخواست ہے، کہ میری رہنمائی فرمائیں اس مسئلے کو حل کرنے میں۔
واضح ہو کہ جس طرح الفاظِ طلاق کہنے سے طلاق واقع ہوتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، چنانچہ سائل نے جب تین طلاق پر مشتمل منسلکہ طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کر دیے، تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینو ں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی ردالمحتار: (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها (الی قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابةالخ ( 3/246 کتاب الطلاق ط سعید )۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0