السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں یاسر احمد، میرا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا اور وہ بہت زبان چلا رہی تھی تو میں کھڑا ہو کر اس کو چماٹ مارنے کی نیت سے اٹھا ،مجھے اس کو طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی، میں نے ایک مرتبہ کہہ دیا" جا میں تجھے طلاق دیتا ہوں" اور دو مرتبہ میں نے کہا تھا کہ "تلات دیتا ہوں تلات دیتا ہوں"پھر اس پر میرے گھر والوں نے باتیں سنائی مجھے کہ تم نے کیا بول دیا، لیکن میں نے بولا کہ میں نے طلاق نہیں دی ، میری بیگم نے بھی یہی سنا کہ ایک دفعہ طلاق دیتا ہوں بس اس کے بعد اس نے نہیں سنا کہ میں نے کیا بولا ہے تو مجھے رجوع کا حکم بتا دیں، کہ کس طریقے سے رجوع ہوگا کہ دوبارہ نکاح ہوگا یا پھر اسی پر منہ سے بول کے رجوع کر سکتا ہوں ۔
واضح ہو کہ شرعاً طلاق واقع ہونے کیلئے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، بلکہ اسکے بغیر بھی شوہر کے طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، نیز "طلاق" کے بجائے لفظِ "تلاق" کہنے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے بعد فوراً ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے، تو بہر صورت اسکی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح مین آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
کما فی اعلاء السنن: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد وھزلھن جد، النکاح والطلاق والرجعۃ (کتاب الطلاق ج 11 صـ 216 ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفی الدر المختار: (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب الخ
و فی رد المحتار: تحت (قوله قضاء) قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره (قوله أو دلالة الحال) المراد بها الحالة الظاهرة المفيدة لمقصوده ومنها ما تقدم ذكر الطلاق بحر عن المحيط؛ ومقتضى إطلاقه هنا كالكنز أن الكنايات كلها يقع بها الطلاق بدلالة الحال الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 297 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: قال رجل لامرأته ترا تلاق. هاهنا خمسة ألفاظ. تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - أنه يقع وإن تعمد وقصد الخ (کتاب الطلاق ج 1 صـ357 ط: ماجدیۃ)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)