السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی جان شہید ولد صاحب زادہ نے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی کے مطالبۂ طلاق پر غصہ کی حالت میں طلاق دی ہے، جس کے متعلق میرا , بیوی اور موقع پر موجود خواتین کا بیان مختلف ہے ۔
شوہر مسمی جان شہید کا بیان حلفی:
یہ کہ میں جان شہید ولد صاحب زادہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیا ن دیتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پرہوگا، یہ کہ جب میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے غسے کی حالت میں دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں"طلاق، طلاق"
بیوی مسماۃ ریاض بنتِ محمد امین کا بیان حلفی:
یہ کہ میں ریاض بنتِ محمد امین اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کہوں گی سچ کہوں گی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اسکا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میرے شوہر نے مجھے تین مرتبہ "طلاق، طلاق، طلاق" بولا ہے۔
بہن فہروزہ بنتِ صاحب زادہ کا بیان حلفی:
میں فہروزہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کہوں گی سچ کہوں گی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میں موجود تھی اور میرے بھائی نے تین مرتبہ "طلاق، طلاق،طلاق" بولا ہے۔
والدہ جان شہید باچا روم کا بیان حلفی:
میں باچا روم اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بیان دیتی ہوں کہ جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میرے بیٹے جان شہید نے تین مرتبہ "طلاق،طلاق،طلاق" بولا ہے۔
اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں میاں وبیوی کے درمیان حالیہ واقعہ میں واضح اور صریح الفاظ "طلاق، طلاق،طلاق" کے ساتھ دو طلاقیں دینے پر تو اتفاق ہے ، جبکہ تیسری طلاق کے بابت بیوی کا دعوی ہے کہ شوہر نے تیسری بار بھی "طلاق " کا لفظ کہہ کر مجموعی طور پر تین طلاقیں دے دی ہیں، جبکہ شوہر اس بات کا انکاری ہے، اس تمام صورتِ حال میں اگر چہ بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے گواہوں کی مطلوبہ تعدادموجود نہیں، لیکن اس کی تائید میں شوہر کی موقعہ پر موجود ماں اور بہن کے بیانات موجود ہیں، جن میں وہ شوہر کی جانب سے تیسری طلاق کی صراحت کر رہی ہیں، لہذا بیوی کو چاہیئے کہ اپنے آ پ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھ کر شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے جبکہ شوہر کو چاہیئے کہ وہ تیسری طلاق سے انکار کرتے ہوئے بیوی کو اپنے عقد میں رکھنے اور حرام زندگی گزارنے پر مجبور نہ کرے ، بلکہ اسے اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کر دے، تاکہ مستقبل میں دونوں حرام زندگی گزارنے سے محفوظ رہ سکیں۔
کما فی الفقہ الحنفی وادلتہ: تقبل فیھا شھادۃ رجلین، أو رجل وامرأتین، سواء کان الحق مالا، أو غیرہ، مثل النکاح والطلاق والوکالۃ والوصیۃ لقولہ تعالی "واستشھدوا شھیدین من رجالکم الخ (کتاب الشھادۃ ج3 صـ 36 ط: وحیدی)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح،ویدخل نحو طلاغ وتلاغ وتلاک أو " ط ل ق" الخ(کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
و فی البحر الرائق: والمرأۃ کالقاضی إذا سمعت أو أخبرھا عدل لا یحل لھا تمکینہ ھکذا اقتصر الشارحون وذکر فی البزازیۃ وذکر الاوزجندی انھا ترفع الأمر إلی القاضی فإن لم یکن لھا بینۃ تحلفہ فإذا حلف فالإثم علیہ اھ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 257 ط: ماجدیۃ)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ کالقضاء بالیمین الکاذبۃ) محترز قول المتن: بشھادۃ قالوا لو ادعت أن زوجھا أبانھا بثلاث فأنکر فحلفہ القاضی فحلف والمرأۃ تعلم أن الأمر کما قالت لا یسعھا المقام معہ، ولا أن تأخذ من میراثہ شیئا وھذا لایشکل إذا کان ثلاثا لبطلان المحیلۃ للإنشاء قبل زوج آخر وفیما دون الثلاث مشکل لأنہ یقبل الإنشاء وأجیب بأنہ إنما یثبت إذا قضی القاضی بالنکاح وھنا لم یقض بہ لإعترافھما بہ وإنما ادعت الفرقۃ زیلعی: وفی الخلاصۃ ولا یحل وطؤھا إجماعا بحر اھ (کتاب الحوالۃ ج5 صـ 407 ط: سعید)