کیافرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی لیاقت ولد غلام محمد اور میری بیوی مسماۃ نسیمہ بنت محمد بخش کے نکاح کو تقریباً بیس سال ہوچکے ہیں،اس نکاح سے ہمارے چار بچے بھی ہیں گھریلو اخراجات کو لیکر گھر میں مختلف مواقع پر لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا ہے،جس میں مختلف اوقات میں مختلف الفاظ ادا ہوئے ہیں،جن کے بارے میں میاں بیوی کا اختلاف ہے
بیوی مسماۃ نسیمہ بنت محمد بخش کا حلفیہ بیان
" میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر جو بھی بیان دونگی سچ بولونگی ،اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا-
میرے شوہر نےدو تین ماہ پہلے بھی مجھے تین سے چار مرتبہ یہ الفاظ بولے ہیں کہ تم میری طرف سے آزاد ہو،فارغ ہو،چلی جاؤ ،اورپھر ہم ساتھ میاں بیوی کی طرح رہتے بھی رہے،اور ابھی بارہ فروری کو پھر میرے اس کہنے پر کہ "نہ میں تیری بیوی نہ تو میرا شوہر" مجھے کہا کہ" میری طرف سے آزاد ہو، فارغ ہو ،چلی جاؤ ،میں تیری طلاق لکھ کر بھیجدونگا"
شوہر مسمی لیاقت ولد غلام محمد کا حلفیہ بیان
" میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر جو بھی بیان دونگا سچ بولونگا،اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا - یہ کہ اس بارہ فروری کے علاوہ مختلف مواقع پر ہر لڑائی جھگڑے میں میری بیوی مجھے یہ کہتی رہی ہےکہ مجھے چھوڑدو ،مجھے فارغ کردو،لیکن میں نے جواب میں کبھی کچھ نہیں کہا ،اب یہ بارہ فروری کو میری بیوی نے پہلے مجھے کہا کہ تم نہیں چھوڑ رہے تو میں نے تمہیں چھوڑدیا ،فارغ کردیا تو اس کے جواب میں میں نے بھی یہی الفاظ دہرائے کہ میں نے تمہیں آزاد کیا ،فارغ کیا،چلی جاؤمیں تیری طلاق لکھ کر بھیجدونگا "
اب معلوم یہ کرنا ہےکہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے،اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں مسماۃ نسیمہ بنت محمد بخش اپنے شوہر مسمی لیاقت علی پر مختلف مواقع میں تم میری طرف سے آزاد ہو،فارغ ہو جیسے الفاظ کے ذریعہ تین سے زائد مرتبہ طلاق دینے کا دعوی کررہی ہے،اور اس کے پاس اپنے اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں ،جبکہ شوہر آخری مرتبہ لڑائی جھگڑے کے علاوہ دیگر مواقع پر طلاق دینے سے انکاری ہے،البتہ آخری مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ کہ" میں نے آزاد کیا،فارغ کیا،چلی جاؤ"طلاق دینے کا اقرار کررہا ہے،لہذا شوہر کے بیان کے مطابق ان کے کہے ہوئے ان الفاظ سے اس کی بیوی مسماۃ نسیمہ پر دو طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے،اور بیوی کے بیان کے مطابق چونکہ شوہر نے مختلف مواقع پر اس طرح کے الفاظ تین سے زائد مرتبہ استعمال کیے ہیں ،اس وجہ سے اس کے لئے مسمی لیاقت علی کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرکے ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہ ہوگا۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري الخ (ج1 ص374 کتاب الطلاق ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح الخ (ج3 ص306 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی رد المحتارتحت: (قوله دين فقط) أي ولا يصدق قضاء لأنه يظن أنه طلق ثم وصل لفظ العمل استدراكا بخلاف ما لو وصل لفظ الوثاق لأنه يستعمل فيه قليلا فتح. والحاصل كما في البحر أن كلا من الوثاق والقيد والعمل إما أن يذكر أو ينوى؛ فإن ذكر فإما أن يقرن بالعدد أو لا، فإن قرن به وقع بلا نية وإلا ففي ذكر العمل وقع قضاء فقط، وفي لفظي الوثاق والقيد لا يقع أصلا، وإن لم يذكر بل نوى لا يدين في لفظ العمل ودين في الوثاق والقيد، ويقع قضاء إلا أن يكون مكرها والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه الخ (ج3 ص251 کتاب الطلاق ط: سعید۔
وفیہ أیضاً: قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق الخ (ج3 ص299 کتاب الطلاق ط: سعید)۔