مسمیٰ محمد قسیم ولد محمد سلیم اپنے پورے ہوش و حواس بلاجبر و اکراہ برضامندی خود مسماۃ اقصیٰ لیاقت ولد لیاقت علی کو آج مؤرخہ 10/01/2024 کو " سہ بار طلاق ، طلاق ، طلاق دے کر حقوق زوجیت سے آزاد کرتا ہوں اور اپنے اوپر حرام قرار دیتا ہوں" بعد از عدت عقدِ ثانی کر سکتی ہے ، اور یہ طلاق نامہ لکھ دیاہے تاکہ سند رہے ۔
نوٹ: مزید وضاحت : فقط نکاح ہوا ہے رخصتی اور خلوت صحیحہ بھی نہیں ہوئی ہے ، اس صورت میں کتنا مہر لازم ہوگا ، بوقتِ نکاح مہر میں دس لاکھ نقد اور دس تولہ سونے کا ذکر کیا گیا تھا ، اور نکاح نامہ میں خرچہ بھی لکھا ہوا ہے ، کیا یہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ۔
صورت مسؤلہ میں جب شو ہر مسمیٰ محمد قسیم نے نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ سے قبل اپنی بیوی مسماۃ اقصیٰ کو مذکور الفاظ " سہ بار طلاق طلاق طلاق دے کر حقوقِ زوجیت سے آزاد کرتا ہوں ، اور اپنے اوپر حرام قرار دیتا ہوں " کے ساتھ تحریری طور پر طلاق دیدی تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے ، اور اس صورت میں منکوحہ پر عدت گزارنا لازم نہیں ، بلکہ وہ بغیر عدت گزارے اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، اس لئے مسمیٰ محمد قسیم پر ایام عدت اور اس کے بعد کا خرچہ بمطابق نکاح نامہ دینا لازم نہ ہوگا اور نہ ہی شوہر سے اس خرچہ کا مطالبہ کرنا درست ہوگا ، البتہ شوہر کے ذمہ نکاح نامہ کے مطابق مقرر شدہ مہر کا نصف (آدھا) حصہ منکوحہ کو دینا لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق الخ (فصل فی الطلاق قبل الدخول، ج 1، ص 373، ط: ماجدیہ) ۔
وفی الدر المختار: (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثا وقعن) لما تقرر أنه متى ذكر العدد كان الوقوع به الخ (باب الطلاق غیر المدخول بھا، ج 3، ص 284، ط: سعید) ۔
و فیہ ایضاً: (و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) الخ (باب المھر، ج3، ص 104، ط: سعید) ۔
و فی رد المحتارتحت: (قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه الخ ( باب المھر، ج 3، ص 104، ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) الخ ( باب النفقۃ، ج 3، ص 572، ط: سعید) ۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0