السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا نکاح ہوا رخصتی نہیں ہوئی ، لیکن کچھ گھریلو تنازعات کی وجہ سے میں نے بذریعہ عدالت اپنی بیوی کو ( طلاق طلاق طلاق ) کا نوٹس بھیج دیا تھا ، لیکن میں اب دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہوں، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کیا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں یا ایک ؟ اور میرے لئے قرآن وسنت کی روشنی میں کیا حکم ہے ؟ شکریہ!
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق یا خلوتِ صحیحہ کا تحقق ہوا ہے یا نہیں ، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر سائل نے نکاح کے بعد رخصتی و خلوتِ صحیحہ سے قبل گھریلو تنازعات کی وجہ سے اپنی منکوحہ کو تین متفرق الفاظ (جیسے طلاق ،طلاق ،طلاق،) پرمشتمل طلاق نامہ کا نوٹس بنوا کر منکوحہ کو ارسال کر دیا ہو ، تو اس سے سائل کی منکوحہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، لہذا اب اگر باہمی رضامندی سے میاں بیوی کی طرح ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں تو باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ،لیکن آئندہ کے لئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ، اس لئے طلاق کے معاملے خوب احتیاط چاہئے، البتہ اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کریں۔
کما فی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ ( ج3 ص 286 باب الطلاق غیر المدخول بہا ط سعید)۔
وفی فتاوی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق الخ ( ج1 ص 373 کتاب الطلاق الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول ط ماجدیہ)۔