مختلف وجوہات کی وجہ سے میاں بیوی میں ناراضگی چل رہی ہو اور طلاق دینے کا ارادہ بھی بالکل نہ ہو ،صلح کی کوشش کے باوجود حا لات ٹھیک نہ ہو رہے ہوں اور پھر بیوی کہے کہ اگر میری مرضی کے مطابق صلح نہیں کرنی تو مجھے نوٹس طلاق بھیج دو ، میری نوکری کا ایشو ہے ، مجھے نوٹس بھیجو میں نے ٹرانسفر کروانی ہے۔ تو مفتی صاحب ! اگر ان حالات میں بندے کا ارادہ کسی صورت بھی طلاق دینے کا نہ ہو اور وہ طلاق نامہ نوٹس تیار کر کے اس صورت میں اپنے پاس رکھ لے کہ صلح کی کوشش کرتا رہتا ہوں ، اگر دو چار دن میں صلح نہیں ہوتی تو پھر بیوی کی نوکری اور اس کے لگا تار اصرار کرنے کی صورت میں بھیج دوں گا تو اس صورت میں تیار کیا گیا نوٹس طلاق نامہ تصور ہو جائے گا کیا ؟ بیوی کے پاس نہ پہنچا ہو نوٹس؟
نوٹ : (1) بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل نے دو طلاق نامے بھیجے ہیں ، ان میں سے پہلے طلاق نامہ ( جو 12 جولائی 2023 کو بنوایا تھا ) میں لکھا ہوا تھا " مسماة بشرى شہباز خان مذكوريہ كو طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں " جس پر سائل نے دستخط بھی کیا ہے ۔
(2) دوسرے نوٹس ( جو 15 جنوری 2024 کو بنوایا تھا ) کے الفاظ بھی وہی تھے جو پہلے نوٹس میں لکھا ہوا تھا ، صرف وائٹو سے اول کو مٹا کر دوم لکھ دیا اور اس پر بھی سائن کیا ۔
سائل نے پہلا طلاق نامہ تیار کرکے اس پر سائن کیا ، جس میں لکھا ہوا تھا کہ " مسماۃ بشری شہباز خان مذکوریہ کو طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں " تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو گیا ، چنانچہ اگر عورت کی عدت مکمل ہو چکی تھی تو اس کے بعد دی گئی طلاقیں سب لغو ہو چکی ہیں ، اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، تاہم دونوں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ اس صورت میں سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں مکمل احتیاط کی جائے ۔
كما في بدائع الصنائع : وأما حكم الطلاق البائن فالطلاق البائن نوعان : أحدهما الطلقات، والثاني الطلقة الواحدة البائنة، ( إلى قوله ) و زوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره ، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية. ( فصل في حكم الطلاق البائن ، ج 3، ص 187، ط : دار الكتب العلمية)- و في الفقه على المذاهب الأربعة لعبد الرحمن بن محمد عوض الجزيري : و لا بد في إيقاع الطلاق بالكناية من أحد أمرين : إما النية كما ذكرنا ، وإما دلالة الحالة الظاهرة التي تفيد المقصود من الكنايات كما إذا سألته الطلاق ، فقال لها : أنت بائن فإنه يقع بدون نية الخ ( مبحث أقسام كنايات الطلاق ، ج 4، ص 287، ط : دار الكتب العلمية)-
و في الفتاوى الهندية : (و أما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. ( الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-
و فيها أيضا : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج 2، ص 255، ط : رشيدية)-
و في رد المحتار تحت (قوله فمنه الخ) قال في فتح القدير : الحق أنه يلحقها لما سمعت من أن الصريح وإن كان بائنا يلحق البائن و من أن المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان كناية الخ ( مطلب الصريح يلحق الصريح و البائن ، ج ۳، ص ۳۰۷، ط: سعید )-
و في خلاصة الفتاوى : و في الفتاوى لو قال لامرأته أنت طالق ثم قال للناس زن بر من حرام است و عنى به الأول أو لا نية له فقد جعل الرجعي بائنا وإن عنى به الابتداء فهي طالق آخر بائن( كتاب الطلاق ، ج ٢، ص ٨٦، ط : رشيدية)-