السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، لیکن جب میں کورٹ میں پیش ہوا تو میں نے اللہ کی جھوٹی قسم کھا کے بول دیا کہ میں نے نہیں دی، جج نے مجھ سے حلف لیا تھا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کے بولو کہ تم نے نہیں دی، میں نے جھوٹ بول دیا اللہ کو حاضر ناظر جان کر۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں
سائل نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد جب جج کے سامنے جھوٹی قسم کھائی تو اس کی وجہ سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ وہ طلاق واقع ہو چکی ہے، البتہ اس جھوٹی قسم کھانے کی وجہ سے سائل سخت گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے جبکہ سائل نے اگر صریح الفاظ میں ایک یا دو طلاقیں دی ہوں تو دورانِ عدت سائل کو رجوع کا حق حاصل ہے، ورنہ رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر نکاح بالکل ختم ہو کر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی صحیح البخاری: الکبائر الإشراک باللہ، وعقوق الوالدین، وقتل النفس، والیمین الغموس
وفی الدر المختار: (ٖغموس) تغمسہ فی الإثم ثم النار، وھی کبیرۃ مطلقا، لکن إثم الکبائر متفاوت نھر(إن حلف علی کاذب عمدا) ولو غیر فعل أو ترک کواللہ إنہ حجز الآن فی ماض(کواللہ ما فعلت) کذا (عالما بفعلہ أو) حال (إلی قولہ) (ویأثم بھا) فتلزمہ التوبۃ الخ (کتاب الأیمان ج3 صـ 705 ط: سعید)
و فی رد المحتار: تحت (قولہ فتلزمہ التوبۃ) إذ لا کفارۃ فی الغموس یرتفع بھا الإثم فتعینت التوبۃ للتخلص منہ اھ (کتاب الأیمان ج3 صـ706 ط: سعید)