میں شدید ڈپریشن اور نفسیاتی مریض ہوں ، غصے کی حالت میں اور نفسیاتی اٹیک پر گھریلو ساز و سامان توڑتا ہوں، اور پیسوں کو پھاڑ دیتا ہوں ، اور اسی حالت میں شدید غصے میں میں نے اپنی بیوی کو فون پر طلاق دیدی، اگرچہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، تو طلاق درست ہوئی ہے یا نہیں؟ آپ اپنی رائے سےآگاہ فرمائیں۔
نوٹ: سائل سے بذریعہ فون یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک طلاق دی اور ایک ہفتے کے اندر رجوع بھی کرلیا ہے۔
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب فون پر اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی تو اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی اور دورانِ عدت رجوع کر لینے سے شرعاً رجوع بھی درست ہوچکا ہے، اب دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتےہیں، البتہ سائل کے پاس آئندہ کے لئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی رد المحتار: ويقع طلاق من غضب الخ (مطلب فی طلاق المدھوش، ج 3، ص 244، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه الخ (مطلب فيما لو حلف وأنشأ له آخر، ج 3، ص 369، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة الخ(باب الرجعۃ، ج 3، ص 398، ط: سعید)۔