میرا بیٹا 28 سال کا ہے،میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے بیٹے نے موبائل فون پر لڑکیوں سے دوستی رکھی ہے ،اور بات چیت کرتا ہے،ان سب لڑکیوں میں سے میرے بیٹے سے کوئی بھی شادی کے لیے تیار نہیں ہے،اب اگر میں شادی کروادیتی ہوں تو شادی کے بعد بھی لڑکیوں سے دوستی اور بات چیت کرتا ہےموبائل فون پر،اگر میں کوئی لڑکی دیکھ کر اس کی شادی کرادیتی ہوں تو اس لڑکی کے ساتھ دھوکہ نہیں ہوجائے گا ؟کیونکہ میرا بیٹا موبائل سے لڑکیوں سے دوستی اور بات چیت نہیں چھوڑرہا ہے،تو اب میرا فرض کیا ہے؟ اب اس کی شادی کے حوالے سے میں کیا کروں؟
سائلہ کے بیٹے کا لڑکیوں کےساتھ موبائل فون پر بلاضرورت بات چیت،ہنسی مذاق کرکے ان کے ساتھ دوستیاں قائم کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا سائلہ کے بیٹے پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرکے آئندہ کے لیے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے،جبکہ سائلہ کو بھی چاہیئے کہ اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ حکمت وبصیرت کے ساتھ ہر ممکن کوشش کرے،اور مناسب رشتہ ملنے پر بیٹے اور اہلِ خانہ کی مشاورت سے اس کے لیے جلد از جلد نکاح کا انتظام کرے،ان شاء اللہ امید ہے کہ نکاح ہوجانے کے بعد وہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آجائے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: وفیما اذا کان الناظر الی المرأۃ الاجنبیۃ ھو الرجل قال فلیجتنب بجھدہ وھو دلیل الحرمۃ وھو الصحیح فی الفصلین جمیعا الخ(ج5 ص327 کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ط: ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (ولایجوز النظر الیہ بشھوۃ کوجہ أمرد) فانہ یحرم النظر الی وجھھا ووجہ الامرد اذا شک فی الشھوۃ الخ(ج1 ص406کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ ط: سعید)۔