السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! سوال یہ ہے کہ ایک عیسائی نے مسلمان ہو کر ایک مسلمان عورت سے شادی کی پھر اس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی اور پھر عیسائی نے کہا کہ میں تو مسلمان نہیں ہوں میں تو عیسائی ہوں، یعنی وہ اسلام سے پھر گیا، اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ جو بیٹی ہے وہ کس کی طرف جائے گی، باپ کی طرف لوٹے گی یا ماں کی طرف لوٹے گی؟ باپ چونکہ کافر ہو چکا ہے اور بیٹی جو ہے وہ تو اسلام کی فطرت پر پیدا ہوئی، جواب ارشاد فرمائیں؟ یہ فتوی جو آپ سے لیا جائے گا یہ عدالت میں دکھانا ہے، تو لہذا یہ سٹیمپ شدہ فتوی اگر آپ دیدیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
مذکور بچی کی ولادت کے وقت چونکہ س کے ماں باپ مسلمان تھے، اس لئے بچی تو بہر حال مسلمان شمار ہوگی، تاہم بچی کی پیدائش کے بعد اگر واقعۃً اس کا باپ مرتد ہوکر عیسائی مذہب اختیار کرچکاہو، اور سمجھانے کے باوجود اسلام قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو کافر ومرتد ہونے کی وجہ سےمذکور بچی پر اس کی ولایت ختم ہوچکی ہے، لہذا مذکور بچی اپنی مسلمان والدہ کی ولایت اور پرورش میں رہے گی ۔
وفی الدرالمختار: ھو لغۃ الراجع وشرعا (الراجع عن دین الاسلام ورکنھا اجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الایمان) الخ (ج4 صـ221 باب المرتد ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: والو لد یتبع خیر الابوین) ھذا یتصور من الطرفین فی الاسلام العارض بان کانا کافرین فاسلم او اسلمت ثم جاءت بولد قبل عرض الآخر والتفریق او بعدہ فی مدۃ یثبت النسب فی مثلھا او کان بینھما ولد صغیر قبل اسلام احدھما فانہ باسلام احدھما یصیر الولد مسلما واما فی الاسلام الاصلی فلایتصور الا ان تکون الام کتابیۃ والاب مسلما الخ (ج3 صـ196 باب نکاح الکافر ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ: لعدم الولایۃ) تعلیل للمفھوم یعنی ان الکافر لایلی علی المسلمۃ وولدہ المسلم لقولہ تعالی: ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا۔ الآیۃ (ج3 صـ77 باب الولی ط: سعید)۔
والمرتد مستحق للقتل فما كان سبب البقاء لا يكون مشروعا فی حقہ، والثاني: أن قتله بنفس الردة صار مستحقا، وإنما يمهل ثلاثة أيام؛ ليتأمل فيما عرض له من الشبهة ففيما وراء ذلك جعل كأنه لا حياة له حكما فلا يصح منه عقد النكاح الخ (ج5 صـ48-49 باب نکاح المرتد ط: دارالکتب العلمیۃ)۔