میں نے بیوی کو ایک طلاق دی اور گھر والوں کو بلا کر کہا کہ لے جائیں اسے ،مگر بیوی نے جانے سے انکار کر دیا اور لڑائی کی، گھر بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ لڑائی ختم ہو جائے ، جب جانے سے انکار کیا تو میں نے دوسری بار طلاق دینا چاہی اور کہا کہ" میں طلاق" اور میری بیوی نے میرا منہ دبا دیا تو میں نے خود کو چھڑایا اور کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں ،جو لوگ اس وقت وہاں تھے ،ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق ہو گئیں ہیں ، میرا ارادہ 2 طلاق دینے کا تھا ، بس منہ دبانے کی وجہ سے میں نے دوبارہ کہا تھا ،کیونکہ منہ دبانے کی وجہ سے بول نہیں سکا تھا ، میرا ارادہ دو طلاق کا ہی تھا کہ میری بیوی سن لے کہ لڑائی نہیں کرے ، مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقیں ہوئی ہیں یا تین؟ میری بیوی اور میرا کہنا یہ ہے کہ دو طلاقیں ہوئی ہیں۔
سائل نے ایک طلاق صریح الفاظ میں دینے کے بعد دوسری طلاق کے لئے جب مذکور جملہ منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے ناقص ادا کیا تو اس ناقص جملہ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ جب سائل نے خود کو چھڑا کر مذکور جملہ " میں طلاق دیتاہوں" کہا تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ، چنانچہ سائل کو عدت گزرنے سے پہلے رجوع کا اختیار حاصل ہے ، اگر سائل عدت گزرنے سے پہلے رجوع کر لے تو نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، ورنہ عدت گزرنے کے ساتھ ہی نکاح ختم ہوجائے گا ، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باہمی رضامندی سے نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، بہر دوصورت سائل کے پاس آئندہ کے لئے صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتی الخ (کتاب الطلاق، ج 3، ص 230، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة الخ (باب الرجعۃ، ج 3، ص 393، ط: سعید) ۔
و فیہ ایضاً: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ (باب الرجعۃ، ج 3، ص 409، ط: سعید) ۔