بسم الله الرحمن الرحيم
میرا نام فہد ہے. میرا نکاح 12 مارچ 2015 کو ہوا تھا ، کچھ وجوہات کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو 20 جنوری 2021 کو ایک طلاق دی اسٹامپ پیپر پر لکھ کر ، پھر رجوع کر لیا تھا ، کچھ وقت کے بعد میں نے 31 اگست 2022 کو ایک طلاق اور دے دی اسٹامپ پیپر پر لکھ کر ، رجوع نہیں کیا تو نکاح ختم ہو گیا ، جب نکاح ختم ہو گیا تو میں نے یونین کونسل سے طلاق سرٹیفیکیٹ بنوایا. جس کے لئے دوسری طلاق نامے کی کاپی درخواست کے ساتھ یونین کونسل کو دی. اس طرح طلاق سرٹیفیکیٹ یونین کونسل سے ملا ہے ، لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ میں نےطلاق سرٹیفیکیٹ بنوا لیا ہے تو یہ سرٹیفیکیٹ تین طلاق سمجھا جائیگا اور اب میرا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہو سکتا ، جبکہ میرا کہنا ہے کہ میں نے اب تک دو طلاقیں دی ہیں اور طلاق سرٹیفیکیٹ دوسری طلاق نامے کی کاپی دے کر ملا ہے -
نوٹ: ابھی تک ہم نے کہیں اور نکاح نہیں کیا ہے ،اوپر بیان کردہ مسئلہ میں اب میرے دو سوال ہیں ،سوال نمبر۱: کیا ہمارے درمیان نکاح دوبارہ ہو سکتا ہے ؟
سوال نمبر۲: کیا لڑکی کہیں اور نکاح کرنے میں آزاد ہے ؟
سائل نے اگر واقعۃْ اپنی بیوی کو فقط دو طلاقیں دی ہوں ، تیسری طلاق نہ دی ہو تو یونین کونسل کی جانب سے صرف سرٹیفکیٹ ملنے سے تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ عورت کی عدت چونکہ مکمل ہو چکی ہے ، لہذا وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، تاہم اگر دونوں میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرنا لازم ہوگا ، تاہم اس صورت میں آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما حكم الطلاق البائن فالطلاق البائن نوعان: أحدهما الطلقات، والثاني الطلقة الواحدة البائنة،(الی قولہ) هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما (الی قولہ) ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر الخ(ج 3 ص 187 ط:سعید)۔
وفی رد المحتار: وحاصله أن عدم الوقوع لكونها ليست امرأة له من كل وجه بل تسمى مختلعة ومبانة الخ(ج 3 ص 311 ط: سعید)۔