میری شادی کو 14 سال ہو چکے ہیں اور میرا ایک مسئلہ ہے جس کے لئے مجھے رہنمائی کی ضرورت ہے ، آج سے تقریباً 3 سال پہلے میں نے مختلف مرتبہ اپنی بیوی کو میسج کیا کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ، پھر ایک بار میسج کیا کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ، پھر ایک بار میسج کیا کہ مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا، میری نیت اس سے کچھ نہیں تھی اور نہ میں یہ کبھی چاہتا، ہم ابھی الگ رہ رہے ہیں ، اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے صحیح رہنمائی ملے ، تاکہ آگے بڑھوں براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں ۔
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتاہے ، سوال کے سچ یاجھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہیں ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اور واقعۃً سائل نے مذکور الفاظ نیت اور مذاکرۂ طلاق کے بغیر کہے ہوں ، تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ وہ حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ، جبکہ آئندہ کے لئے اس قسم کے معاملات میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔
کما فی الدرالمختار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،الخ ( ج3 ص 296 باب الکنایات ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا الخ (ج3 ص 301 باب الکنایات ط سعید )۔