السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کا پانچ سال قبل نکاح ہوا، اور انکے شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہے، اور اخلاقی اعتبار سے بھی شوہر کا رویہ درست نہیں، مذکور عورت کو ان کے والدین عید الضحی کے بعد اپنے گھر لے گئے اور تقریباً یہ پانچ ماہ والدین کے ساتھ رہی پھر جرگہ کے ساتھ والدین نے جرگہ میں سے ایک شخص کو ضامن بنا کر لڑکی کے گھر بھیج دیا، پھر یہ عورت ایک ماہ دس دن شوہر کے گھر رہی چنانچہ پھر بھی شوہر کے گھر والوں کا اور شوہر کا رویہ درست نہ ہوا اور شوہر لڑکی کے قریب بھی نہیں آیا، لڑکی کے والدین نے دوبارہ لڑکی کو اپنے گھر بلایا اور لڑکی نے ان کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا، پھر دوبارہ جرگہ ہوا جس میں لڑکے نے اس بات کا اقرار کیا کہ میں حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہوں، اور جرگہ میں طے ہوا کہ لڑکے کو علاج کے لئے دو ماہ کی مہلت دی جائے، بعد میں پھر لڑکی کے والدین نے کہا کہ ہمیں ان لوگوں پر اعتبار نہیں ہے ، لہذا اس جرگے کو تحریری صورت میں لکھا جائے، چنانچہ اس تحریر پر سب نے دستخط کیے لیکن لڑکے کے دادا نے دستخط کرنے سے انکار کیا۔ (بالفاظِ دیگر لڑکے کا دادا اس رشتہ کو کسی صورت ختم کرنے پر راضی نہیں ہے) اب پوچھنا یہ ہے کہ لڑکے کے دادا کا رکاوٹ بننا شرعاً کیسا ہے ؟ اور مذکورہ لڑکی کے لئے شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے ؟ شکریہ
نوٹ: شروع کے تین مہینے صحیح تھا ، حقوقِ زوجیت بھی ادا کرتا رہا، لیکن اس کے بعد پھر میرے قریب نہیں آیا۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر نکاح کے ابتدائی ایام میں صحت مند اور حقوقِ زوجیت پر قادر ہونے کے باوجود اب حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہو، اور وہ اس بات کا اقرار بھی کر رہا ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ اور اس کے گھر والوں کو چاہیئے کہ اسے کچھ عرصہ اپنا علاج کرانے کی مہلت دیدیں اور اس عرصہ میں اگر علاج معالجہ کے ذریعہ شوہر حقِ زوجیت ادا کرنے پر قادر ہو جائے، تو ٹھیک ہے، وگرنہ بصورت دیگر علاج معالجہ کے باوجود مایوسی کی صورت میں اسے چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی (سائلہ) کو طلاق دے کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے، تاکہ وہ ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو، جبکہ اس سلسلہ میں شوہر کا علاج کے نتیجہ میں ہم بستری پر قدرت نہ ہونے کے بعد بھی بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ نہ کرنا اور اسے یو ں ہی لٹکائے رکھنے پر اصرار کرنا اور شوہر اور اس کے دادا سمیت خاندان کے تمام ذمہ دار افراد کا اس شرعی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہیں بلکہ اپنے اس غیر شرعی رویہ کی وجہ سے وہ بھی گناہ گار ہو رہے ہیں ، اس لئے انہیں اپنے اس طرزِ عمل سے احتراز چاہیئے۔
وفی الدر المختار: (ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل) ولو تقدیرا بدائع الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 235 ط: سعید)
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ أی القدرۃ علی وطء ) أی الاعتدال فی التوقان ان لا یکون بالمعنی المار فی الواجب و الفرض و ھو شدۃ الاشتیاق ، و أن لا یکون فی غایۃ الفتور کالعنین ( الی قولہ ) و فی البحر و المراد حالۃ القدرۃ علی وطء ، و المھر و النفقۃ مع عدم الخوف من الزنا و الجور و ترک الفرائض و السنن ، فلو لم یقدر علی واحد من الثلاثۃ أو خاف واحدا من الثلاثۃ أی الأخیرۃ فلیس معتدلا الخ ( کتاب النکاح ج 3 صـ 7 ط : سعید)