السلام علیکم ! گزشتہ دنوں ایک طلاق کا واقعہ سامنے آیا ہے ، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے ، مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔ لڑکی نے ایک شادی شدہ مرد سے نکاح کیا، جب شوہر کی پہلی زوجہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ غصے میں لڑائی کرتے ہوئے شوہر سے اپنی نئی بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا کرتی، اور روزانہ پہلی بیوی کی یہی لڑائی اور مطالبہ تھا، ایک روز پہلی بیوی نے دوبارہ کہا کہ تم اسے (نئی زوجہ کو) طلاق دو ، جس پر شوہر نے جواب دیا کہ تمہارے منہ سے طلاق ہوتی ہو تو سو دفعہ ہو ، جس کا مطلب صاف واضح تھا کہ طلاق دینا پہلی بیوی کے بولنے کا کام نہیں ، ایک اور بات یہ کہ اس وقت عورت حاملہ بھی تھی ۔ مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر کی یہی مراد ہو جو سوال میں مذکور ہے تو اس سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، تاہم اگر شوہر دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے رہا ہواور دونوں کے حقوقِ واجبہ پوری طرح ادا کر رہا ہو تو ایسی صورت میں سائل کی پہلی بیوی کا اپنے شوہر سے اسے طلاق دینے کا مطالبہ کرنا اور اس بات کو بنیاد بنا کر لڑائی جھگڑا کرکے گھر کا ماحول خراب کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا الخ ( سورة النساء، الأية : 3)-
و في سنن أبي داود : عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : « من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل». (كتاب النكاح، باب في القسم بين النساء، ص :481، ط : مؤسسة الرسالة)-
و في فتاوى الهندية : يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة. ( فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج 2، ص 196، ط : رشيدية)-
و في الدر المختار : وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ الخ (كتاب الطلاق،ج 3، ص 232، ط : سعيد)-