میں نےشدیدغصےاورسوچنےسمجھنےسےقاصرحالت میں بیوی کویہ لو"divorce,divorce,divorce " یعنی "طلاق،طلاق،طلاق"بول دیابغیرکسی نیت کےاورپتہ نہیں کہ کیابول رہاہوں،کیاواقعی ہماری طلاق ہوگئی ہے،ایک بارپہلےبھی ایک طلاق دےکررجوع کرچکاہوں؟براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ طلاق کے واضح اور صریح الفاظ کے استعمال کرتے وقت شرعاً نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ نیت کےبغیر بھی اس طرح کے الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائل نے عرصہ قبل اگر " میں تمہیں طلاق دیتاہوں " وغیرہ جیسے صریح او ر واضح الفاظ کے ساتھ بیوی کو ایک طلاق دے کر دوران عدت رجوع کرلیا ہو، تو چونکہ شرعاً بھی اس کے بعد رجوع درست ہوا ہے، اس لئے اب حالیہ واقعہ میں شوہرکے مذکور الفاظ "یہ لو طلاق ،طلاق ،طلاق" کہہ دینے سے اس کی بیوی پر مزید دو طلاقوں کے وقوع کیساتھ مجموعی طور پرتین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ ایک طلاق محل نہ ہونےکی وجہ سےلغوہوگئی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کےبغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا میاں وبیوی پرلازم ہےکہ وہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیار کریں، اور میاں وبیوی والےتعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے، نیز عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی: الطلاق مرتٰن فامساک بمعوف أو تسریح باحسان ۔الآیۃ (سورۃ البقرۃ آیت نمـ129)۔
وقال ایضاً: فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔الآیۃ (سورۃ البقرۃ آیت نمـ130)۔
وفی الھندیۃ: واذا طلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یرجعھا فی عدتھا رضیت بذلک او لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ (ج1 صـ470 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: ان کان بحال الخ) (الی قولہ) ومقتضی ھذا الفرع ان من وصل فی الغضب الی حالۃ لایدری فیھا مایقول یقع طلاقہ الخ (ج3 صـ369 کتاب الطلاق بالتعلیق ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ: لترکہ الاضافۃ) (الی قولہ) ان من الالفاظ المستعملۃ: الطلاق یلزمنی، والحرام یلزمنی، وعلی الطلاق، وعلی الحرام، فیقع بلانیۃ للعرف الخ (ج3 صـ248 کتاب الطلاق باب الصریح ط: ایچ ایم سعید)۔