میرا آن لائن نکاح ہوا تھا ، میں نے لڑکے کو کبھی نہ دیکھا نہ ملاقات ہوئی ، بس آن لائن ہی دیکھا تھا، نکاح کے دو مہینے بعد غصے میں اس نے مجھے کال پر تین دفعہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، اور اس کے دو دن بعد میسج پر بھی لکھ کر یہی کہا کہ طلاق دیتا ہوں ، تو کیا یہ طلاق ہوگئی ہے ؟ تو کیا طلاق نامہ بنوانا پڑے گا ؟
(نوٹ) سائلہ سے بذریعۂ ٹیلی فون معلوم ہوا کہ نکاح میں لڑکی کی طرف سے وکیل اس کا والد بنا تھا ، اور لڑکے کی طرف سے وکیل اس کا خالو بنا تھا ، لڑکے نے بذریعۂ ویڈیو کال قبول ہے کہا تھا ، اور لڑکی نے نکاح نامہ پر دستخط بھی کیا تھا ، اور لڑکے کی جگہ پر اس کے خالو نے ایجاب و قبول کرنے کے ساتھ دستخط بھی کیا تھا ، اور دونوں کی فیملی مجلسِ عقد میں موجود تھی ، اور لڑکا ترکی میں ہے ، سائلہ نے اس کو صرف ویڈیو کال کے ذریعہ دیکھا تھا ، لہٰذا رخصتی اور خلوتِ صحیحہ بھی نہیں ہوئی ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق جب لڑکے کی طرف سے اس کے خالو نے مجلسِ نکاح میں قبول کرلیا تھا تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا تھا ، چنانچہ نکاح کے بعد خلوت اور رخصتی سے قبل اگر سائلہ کے شوہر نے واقعۃً متفرق طور پر طلاق کے الفاظ تین مرتبہ کہہ دیے ہوں، تو پہلی دفعہ کہنے سے ہی دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ، اور بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، چونکہ اس صورت میں سائلہ پر عدت لازم نہیں ، لہٰذا سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کمافی الدر المختار: ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین وإن طال (ج3، صـــ 14، ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف " قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام " لا نكاح إلا بشهود " اھ (ج2، صـــ5، ط: انعامیہ)۔
وفیھا ایضاً: فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة اھ (ج2، صـــ 71، ط: انعامیہ)۔
وفی الفقہ الإسلامی: يرى الحنفية: أنه يصح التوكيل بعقد الزواج من الرجل والمرأة إذا كان كل منهما كامل الأهلية أي بالغاً عاقلاً حراً؛ لأن للمرأة عندهم أن تزوج نفسها، فلها أن توكل غيرها في العقد؛ عملاً بالقاعدة الفقهية القائلة: كل ما جاز للإنسان أن يباشره من التصرفات بنفسه، جاز له أن يوكل غيره فيه، إذا كان التصرف يقبل النيابة اھ (ج7، صـــ 219، ط: رشیدیہ)۔