کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ! کہ میں مسمیٰ محمد اسماعیل نے گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے اپنی بیگم مسماۃ ریحانہ ناز کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیدی ہیں ، میں نے خود جاکر طلاق نامہ بنوایا اور اس پر دستخط کر کے بیگم کے حوالے کیا لیکن میں نے زبانی نہیں بولا ، اور بیگم نے طلاق نامہ پر دستخط بھی نہیں کیا ، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاقیں واقع ہوئیں کہ نہیں ، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ۔
واضح ہو کہ تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، چنانچہ سائل نے جب منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط بھی کر دیے اگرچہ بیوی نے دستخط نہ کیے ہوں ، تب بھی سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید ) ۔