میرا شوہر اور میں نارمل حالت میں تھے، اسی دوران اس نے کہا "طلاق لو اور جاؤ" اور بھی کچھ کہا تھا یاد نہیں شاید یہ کہا تھا "میں یہ کہوں گا "۔
اب یہ پوچھنا ہے اس طرح کہنے سے کچھ ہوتا تو نہیں ،جبکہ میاں کا کہنا ہے ،میرا مطلب تھا میں کبھی طلاق نہیں دوں گا تمہیں لینا ہے خود لے لو "اور اس پر میاں نے حلف بھی اٹھایا ہے،پلیز رہنمائی فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے،اس مختصر تمہید کےبعد واضح ہوکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اور مذکور الفاظ "طلاق لو اور جاؤ"سے سائلہ کے شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو،جس پر وہ قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہو تو ایسی صورت میں مذکور الفاظ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے،تاہم آئندہ کے لیے سائلہ کے شوہر کو اس طرح کے الفاظ سے احتیاط چاہیئے۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اردو محاورے میں مذکورہ جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں،ایک یہ کہ "جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں تو پھر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق لے لو"اور دوسرا مطلب اردو محاورے میں یہ بھی ہوسکتا ہےکہ"جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو پھر مجھ سے طلاق لے لو"یعنی مجھ سے طلاق طلب کرلو،اردو محاورے کے لحاظ سے مذکورہ جملے میں دونوں معنی کا یکساں احتمال ہے،اس کے بر خلاف "خذی طلاقک "میں عربی محاورے کی رُو سے دوسرا احتمال نہیں ،بلکہ وہ پہلے معنی پر صریح ہے،اسی لیے وہاں نیت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔اور جب شوہر کے مذکورہ جملے میں دونوں کا احتمال ہےتو کسی ایک معنی کی تعیین میں اس کا قول معتبر ہوگا،لہذا وہ جو ان الفاظ کو "دھمکی اور مستقبل کا ارادہ "بتلاتا ہے،اگر وہ اس پر حلف کرےکہ میرامقصد طلاق دینا نہ تھا،بلکہ بیوی کو طلاق کے مطالبے کا حکم دینا تھا،تو اس کا قول قضاءً معتبر ہوگا،اور ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی(ج 2ص353 مکتبہ: معارف القرآن کراچی)۔
کما فی الدر المختار: (ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة
تأثيرا(على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى الخ (ج3 ص300 کتاب الطلاق،باب الکنایات ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين الخ (ج1ص375 کتاب الطلاق،الباب الثانی،الفصل الخامس فی الکنایات ط: ماجدیۃ)۔