السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا اور میری بیوی کا موبائل کی وجہ سے تکرارہوا، میں نے بیوی کو کہا موبائل دو، ورنہ خدا کی قسم ادھر بیٹھے بیٹھے تمہیں طلاق دونگا، اس نے نہیں دیا ، پھر میں نے کہا تمہیں طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ، طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ، طلاق دیتا ہوں ،تیسری مرتبہ بھی ان شاء اللہ کہا ،مگر کچھ توقف کے بعد , میرے ذہن میں تھا کہ تیسری مرتبہ بھی ان شاء اللہ کہونگا ،مگر کہنا یاد نہ رہا جیسے ہی یاد آیا تو میں سوچ میں پڑگیا کہ آیا اب ان شاء اللہ کہنے کا فائدہ ہے کہ نہیں، پھر میں نے کہا چلو کہہ دیتا ہوں، شاید طلاق نہ ہو، پھر میں نے بیوی کو کہا اپنے ابو کو بلاؤ اور جاؤ ،جب وہ جانے لگی تو میں نے اس کو روکا کہ طلاق نہیں دی ،نہیں جانا ،مگر وہ پھر بھی چلی گئی ،اس کے ایک مہینہ بعد میں نے اسے ایک طلاق بائن ان الفاظ کے ذریعہ "میں اسے ایک طلاق بائن دیتا ہوں "دیدی ،اور اس کی اس کو خبر نہیں ہوئی، پھر کچھ عرصہ بعد میرے ماموں آئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟میں نے کہا وہ کہتی ہے طلاق دیدی تو سمجھو طلاق ہے، جبکہ میری نیت جو طلاق بائن دی تھی، اس کی تھی ،اور میری بیوی کہتی ہے تم نے یہ بھی کہا کہ تم مجھ پر حرام ہو اور میں تم پر اور بیوی کا یہ دعوی اس وقت کے بارے میں ہے کہ جس وقت میں نے طلاق دیکر ان شاء اللہ ساتھ میں کہہ دیا، جبکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے مذکورہ بالا الفاظ کے علاوہ کوئی لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ مذکورہ بالا الفاظ کے استعمال کے وقت میری نیت طلاق کی تھی سوائے ایک کے جو طلاق بائن دی تھی ،اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں کتنی طلاقیں ہونگی ، اور اگر بیوی کے ان الفاظ کی وجہ سے المرأۃ کالقاضی والا حکم لگ جائے ،پھر اگر بیوی سے کہوں کہ تم انکار کرو تو وہ کر لے گی ،پھر بھی طلاق ہوگی کہ نہیں ؟رہنمائی فرمائیں
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل نے الفاظِ طلاق استعمال کرتے وقت تیسری مرتبہ طلاق کے بعد ان شاء اللہ متصل نہیں کہا تھاتو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی،اور اس واقعہ کے ایک ماہ بعد جب مذکور الفاظ"میں اسے ایک طلاقِ بائن دیتا ہوں"کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر دوسری طلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اب بغیر تجدیدِ نکاح کے ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار تحت (قولہ الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح الخ (ج3 ص306کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: الصريح نوعان رجعي وبائن ففي البدائع أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن. فالأول أن يكون بحروف الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة ولا موصوف بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف ولا مشبه بعدد أو صفة تدل عليها. وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف، أو مشبها بعدد أو صفة تدل عليها. اهـ. ويعلم محترز القيود مما يذكره المصنف آخر الباب من وقوع الثلاث في أنت هكذا مشيرا بأصابعه. ووقوع البائن في أنت طالق بائن بخلاف وبائن وبأنت طالق كألف أو تطليقة طويلة واختار في الفتح أن القسم الثاني ليس من الصريح، فلا حاجة للاحتراز عنه. واستظهر في البحر ما في البدائع معللا بأن حد الصريح يشمل الكل. قال في النهر: للقطع بأنه قبل الدخول أو على مال ونحوه ذلك ليس كناية، وإلا لاحتاج إلى النية أو دلالة الحال، فتعين أن يكون صريحا إذ لا واسطة بينهما. اهـ. وفيه عن الصيرفية: لو قال لها أنت طالق ولا رجعة لي عليك فرجعية، ولو قال: على أن لا رجعة لي عليك فبائن. اهـ. وسيأتي آخر الباب تمام الكلام على الفرع الأخير. (قوله وإن نوى خلافا) قيد بنيته لأنه لو قال جعلتها بائنة أو ثلاثا كانت كذلك عند الإمام، ومعنى جعل الواحدة ثلاثا على قوله أنه ألحق بها اثنتين لا أنه جعل الواحدة ثلاثا، كذا في البدائع. ووافقه الثاني في البينونة دون الثلاث ونفاهما الثالث نهر، وتمامه فيه.(ج3 ص250 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " وكذا إذا نوى الإبانة " لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه الخ (ج2 ص378 کتاب الطلاق ط: رحمانیۃ)۔