بعد از سلام گذارش ہے کہ میں نے عرصہ تین سال قبل ایک طلاق یافتہ خاتون سے شادی کی تھی، جس کے پہلے سے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی جو شادی کے بعد میرے ساتھ رہنے لگے، بعد از شادی اس خاتون سے میری (بیٹی) ہوئی ہے جو ایک سال کی ہو چکی ہے۔
اب سابقہ بچوں کا باپ نان و نفقہ (جو پہلے دیتا تھا) سے بچنے اور بچی کی شادی (جو تاحال بارہ برس کی ہے) سے واپسی کا تقاضا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بچی کیلئے نامحرم ہوں، میں نے قرآن مجید کی سورتِ نساءکی آیت 23 کا حوالہ دیا ہے جس میں میں نے کہا ہے کہ جس عورت سے نکاح ہو چکا اور دخول ہوا اس کی اولاد مجھ پر شرعی حرام ٹہری ، لہذا بچی نامحرم نہیں رہی ، کیا کہتے ہیں علماء دین ذیل آیت کی روشنی میں فتوی درکار ہے۔ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23) ترجمہ :کنز العرفان تم پر حرام کر دی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ کے رشتےسے تمہاری بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (جو ان بیویوں سے ہوں ) جن سے تم ہم بستری کر چکے ہو پھر اگر تم نے ان ( بیویوں ) سے ہم بستری نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کر نا حرام ہے۔ البتہ جو پہلے گزر گیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
واضح ہو کہ سائل مذکور لڑکی کے لئے محرم ہے ، جیسا کہ مذکور آیت مبارکہ میں بھی آیا ہے ، لہذا سابق شوہر کی یہ بات تو شرعاً درست نہیں ، البتہ نو برس مکمل ہونے کے بعد چونکہ والد کو اپنی بیٹی اپنی تحویل میں لینے کا مکمل اختیار ہوتا ہے ، اس لئے اگر مذکور لڑکی کا والد اس کو لینا چاہےتو سائل کے لئے اس لڑکی کو اپنے پاس روکنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجةلما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة والربيب.اھ(ج3ص31فصل فی المحرمات ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: قلت: وفی السراجیۃ، إذا سقطت حضانۃ الأم وأخذہ الأب لا یجبر علی أن یرسلہ لھا ، بل ھی إذا أرادت أن تراہ لاتمنع من ذلک الخ ( ج 3 ص 571 باب الحضانۃ ط سعید ) ۔
وفی الھندیۃ: ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منها.الخ ( ج1 ص 541 باب الحضانۃ ط ماجدیہ) ۔ واللہ اعلم