طلاق

میاں بیوی کے درمیان تین طلاقوں کے بارے میں اختلاف کی صورت کا حکم

فتوی نمبر :
70641
| تاریخ :
2024-01-31
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میاں بیوی کے درمیان تین طلاقوں کے بارے میں اختلاف کی صورت کا حکم

( بیوی کا بیان )
السلام علیکم !الله پاک کو حاضر ناظر جان کر میں جو کہوں گی، سچ کہوں گی۔
میری ساس نے احساس پروگرام کا ٹوکن بنایا تھا، وہ ٹوکن میرے شوہرنے میرے نام کر دیا، جب میری ساس کو پتا چلا تو پھر میرے اس ٹوکن کو بدلنے کے لئے میرا شوہر اور میری ساس دوبارہ آگئے کہ ٹوکن میری ساس کے نام ہو جائے ، لیکن ایسا نہیں ہوا، پھر یہ ماں اور بیٹا گھر آئے تو میں اپنے بڑے دیور کے گھر میں گئی تھی، جو ہمارے پڑوس میں رہتا ہے، میرا شوہر آیا، گلی میں کھڑے ہو کر اس نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں، رنڈی کی بچی گھر آباد کر ، تین بار اس نے یہی الفاظ کہے تو سب پوچھنے لگے کہ اس کو کیا ہو گیا ہے، جو چپ نہیں ہو رہا، اسکے بعد میں گھر آئی، میرے شوہر نے وضوکیا ، نماز پڑھی تو میری ساس بولی کہ تیرے شوہرنے مجھ سے کہا ہے کہ اگر یہ پیسے تجھے ملیں گے تو تم مجھے دوگی، ورنہ وه تمہیں طلاق دے گا ، میں اپنے شوہر کے پاس گئی اور کہا ابھی تک پیسوں کا پتہ بھی نہیں اور تم نے اتنی بڑی بات کہہ دی ، میرا شوہربولا کہ پیسے تو تم نہیں دوگی مجھے پتہ ہے، تو آج سے ہی تم مجھ پر طلاق ہو، میں رونے لگی، اتنے میں بھابھی جو میری خالہ بھی ہے اور اس کی بھتیجی میرے گھر آئی، مجھ سے پوچھا کیا ہوا؟ جب میں نے بات بتائی تو انہوں نے کہا اس طرح سے طلاق نہیں ہوتی۔
(دوسری لڑائی منگل کا دن 9 جنوری 2024)
میرے شوہر نے کہا ،مجھے تین ہزار ر وپے چاہیئے، مجھے شراب کی بو تل اور چرس لینا ہے، میں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو اس نے کہا کہ جو تمہارے پاس 500 روپے ہیں ، وہ مجھے دے دو، جب میں نے پیسے دیدیے تو کہنے لگا جو بل کے 1500 تمہیں بھابھی نے دیے ہیں ، وہ مجھے دے دو، میں نے وہ دے دیے ، اسکے بعد کہنے لگا مجھے ایک ہزار روپے اور بھی چاہیئے، میرے پاس نہیں تھے،تو پھر اپنی ماں سے مانگے، چھوٹے بھائی سے مانگے، انہوں نے بھی نہیں دیے ، پھر مجھ سے لڑنے لگا اور کہنے لگا کہ "تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق ہو" تین بار کہہ کر بولنے لگا کہ میں نے تمہیں دل سے فارغ کر لیا ہے کئی بار طلاق دے کر ،لیکن تم کو صرف استعمال کے لئے رکھا ہے اور تم بھی بے شرموں کی طرح بیٹھی ہو، اپنے گھر نہیں جاتی، کیونکہ آپ کے گھر والے آپ کو پال نہیں سکتے، اس کے بعد مجھے دو تین تھپڑمار کر ماں بہنوں کی گندی گالیاں دے کر گھر سے نکل گیا، میں رو رہی تھی کہ اچانک میری امی کا فون آگیا ،میں نے جب فون اٹھایاتو اپنی امی سے پوری بات کہہ دی اور کہا کہ مجھے یہاں سےلے جاؤ، اتنے میں میری ساس میرے کمرے میں آئی اور مجھ سے کہا کہ تم نے اپنی امی کو کیوں بتایا؟ میں نے کہا، میرے شوہر نے جب طلاق دے دی تو کیسے نہ بتاتی، اس بات پر میری ساس نے کہا کہ تمہارا سونا کہاں ہے؟ مجھے دو، میں نے اپنے سونے کا ہار اٹھا کر اپنی ساس کو دیا تو وہ اپنے کمرے میں لے گئی ، میرے چھوٹےدیور نے کہاکہ موبائل دو، میں فون کرتا ہوں، موبائل لے کر اپنی جیب میں رکھ دیا ،اسکے بعد میری امی اور میرا بھائی میرے گھر پہنچے اور میں ان کے ساتھ آگئی، اس کے بعد ہم مفتی صاحبان کے پاس گئےاور ان سے پوچھا تو ان کے کہنے پر میں نے عدت شروع کر دی، کیوں کہ میں نے اپنے کانوں سے طلاقیں سنی تھیں، لہٰذا آپ سے گزارشں کرتی ہوں کہ اللہ کے واسطے میرے لئے جائز فیصلہ کیجئے۔ ثمرین بنت آدم خان
( شوہر کا بیان )
میں علی شیر! اللہ کو حاضر ناظر سمجھ کر جو کہوں گا سچ کہوں گا۔
1) یہ جو ٹوکن کی بات ہے، یہ میری ماں کے ساتھ بحث ہو رہی تھی ، تو میں نے ماں سے کہا کہ ہم آپکےپیسے نہیں کھائیں گے ،پہلے تو یہ ملیں گے نہیں، لیکن اگر مل بھی جائیں تو ہم تمہیں دیں گے ، اگر میری بیوی کھائے گی تو میں جیب سے دونگا، نہیں تو میں اپنی بیوی کا شناختی کارڈ قینچی سے کاٹ دوں گا، یا اسے گھر سے نکال دونگا،یہاں پر طلاق کی کوئی بات ہی نہیں تھی، بلکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا تھا اور بیوی کی طرف داری کر رہا تھا۔
( بروز منگل 9 جنوری 2024 )
2)وہ بل کے پیسے بھائی لوگوں نے مجھے دیے تھے کہ یہ اپنے پاس رکھو، اور اگلی 8 تاریخ کو واپس دینا، ورنہ یہ ہم سے فضول میں خرچ ہو جائیں گے، وہ میں نے اپنی بیوی کے پاس رکھے تو میں نے وہ بل کے 1500 روپے ان سے لیے اور کہا کہ 500 روپے اور دو، پہلے تو یہ نہیں دے رہی تھی، پھر جب دیے تو ناراض ہوگئی، اور جب میں جا رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں ماں کے گھر جاؤ نگی، تو اس پر میں نے اسے ایک گالی ماں کی دی ہے اور میں چلا گیا، اور اس وقت میری ماں اور چھوٹا بھائی موجود تھا، میں نے اس کو طلاق کی بات نہیں کی تھی ، پھر جب یہ جارہی تھی تو اس پر میں نے جلیل نامی شخص کو بلایا کہ آپ ان سے پوچھ لیں کہ آپ کیوں جارہی ہو؟ لیکن اس نے جواب میں کہا کہ میں ان کی خدمتوں سےتنگ ہو گئی ہوں اور طلاق کی کوئی بات نہیں تھی اور نہ ہی اس نے کہا کہ اس نے مجھے طلاق دی ہے تو اس لئے جارہی ہوں، یہ جب وہاں پہنچی تو طلاق کی باتیں آگئیں ۔ حالانکہ میں نے اسے کوئی طلاق نہیں دی ہے ۔
3)اس نے ایک دن کہا کہ اللہ ہمیں بچے نہیں دے، تو اس پر میں نے کہا تھا کہ اگر نہیں بھی ہوں تب بھی میں تمہیں نہیں چھوڑو ں گا، یہ جو تمہیں استعمال کرتا ہوں، یہ بھی بہت ہے، ور نہ اس حال میں پھر میں کہاں جاؤں گا ۔
اور اس بات پر میں حلف اٹھاتا ہوں کہ الزام مجھ پر جھوٹا لگایا گیا ہے کہ اس نے طلاق دی ہیں، اللہ گواہ ہے کہ میں نے اسکو کوئی طلاق نہیں دی ہے ، بس اصل وجہ میری معذوری ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بیوی کے بیان کے مطابق حالیہ لڑائی جھگڑے میں شوہر نے پہلی لڑائی کے دوران مذکور الفاظ " پیسے تو تم نہیں دوگی، مجھے پتہ ہے تو آج سے ہی تم مجھ پر طلاق ہو " اور دوسری لڑائی میں " تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو " کہے تھے، لیکن بیوی کے پاس اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں ، جبکہ شوہر تین طلاقیں دینے سے انکاری ہے اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے کے لئے تیار ہے، جب ایسی صورت پیش آجائے کہ عورت تین طلاقوں کی دعویدار ہو ، مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " ألمرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصریح، ج 3 ص 257 ط: ماجدیۃ )۔
وفی الھندیۃ: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها الخ (الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج1 ص 354 ط: ماجدیۃ )۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن: بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا وهذا لا يشكل إذا كان ثلاثا لبطلان المحيلة للإنشاء قبل زوج آخر وفيما دون الثلاث مشكل؛ لأنه يقبل الإنشاء وأجيب بأنه إنما يثبت إذ قضى القاضي بالنكاح وهنا لم يقض به لاعترافهما به، وإنما ادعت الفرقة زيلعي، وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر الخ ( کتاب القضاء ج 5 ص 407 ط: سعید )۔
و فی فتاوی قاضی خان: وھم اصناف، صنف لا یکون کلامھم شھادۃ لعدم الاھلیۃ و اھلیۃ الشھادۃ انما تکون بالعقل الکامل والضبط والولایۃ علی التمیز بین المدعی والمدعی علیہ فلا تقبل شھادۃ الصبیان والمجانین ( الی قولہ ) فلا ینعقد النکاح بحضرتھم وکذلک شھادۃ النساء وحدھن الخ ( کتاب الشھادۃ ج 5 ص 421 ط: رشیدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70641کی تصدیق کریں
0     1333
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات