کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی اور لڑائی کے وقت شوہر نے بیوی سے کہا : " میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، طلاق، طلاق " اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کتنی طلاق واقع ہوگی ؟ شرعی دلائل کی بناء پر جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں نکاح و رخصتی کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوران جب شوہر نے مذکور الفاظ " میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق " کہہ دیئے ، تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا میاں و بیوی پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، و گرنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزر جانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ ( سورۃ البقرۃ: 230)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج ۱ ص ۳۵۵ ط: ماجدیہ)۔
و فیہ ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ۱ ص ۴۷۳ ط: ماجدیہ) ۔