السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ !مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ زید نے اپنے چچا کی لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا تو اس لڑکی نے رشتہ کرنے سے انکار کر دیا، پھر کچھ وقت کے بعد اس نے دوسری جگہ رشتہ کرنے کا سوچا، وہاں رشتہ مانگنے جارہے تھے کہ راستے میں ان کے پاس ایک آدمی پیغام لے کر آیا کہ آپ لوگ وہاں رشتہ مانگنے مت جاؤ، وہ لڑکی رضامند ہے ،آپ لوگ اس سے رشتہ کرلو، اسی نے یہ پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے،یہ لوگ وہیں راستے سے ہی واپس ہوگئے اور اسی لڑکی سے منگنی کر لی گئی، کچھ مدت کے بعد نکاح ہوگیا اور اب نکاح کو ایک سال مکمل ہوچکا اور دوسرا سال چل رہا ہے، لیکن ہمبستری ایک دفعہ بھی نہیں ہوئی ہے۔نکاح کے بعد ابتدائی ہفتے میں شوہر ہمبستری نہیں کرسکتا تھا، بقول اس کے کہ ان پر جادو کیا گیا تھا(ہماری زبان بلوچی میں جسے کہا جاتا ہے کہ یہ بندھا ہوا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات آلہ تناسل بالکل نہیں اٹھتا ہے اور اگر اٹھے تو ہمبستری کرنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے اور انزال بالکل نہیں ہوتا ہے، ایسا مسئلہ یہاں بہت سے لوگوں کو پیش آتا ہے ،پھر علاج معالجہ و دم وغیرہ سے بندہ ٹھیک ہوجاتا ہے)الغرض بیوی نے کبھی بھی اس کو قدرت علی الوطی نہیں دی، ابتدائی ہفتے میں شوہر ہمبستری نہیں کرسکتا تھا اور یہ مسئلہ اسے ایک مہینے تک درپیش رہا (اس وقت بھی بیوی نے نہیں چھوڑا اور اس کے بعد بھی ابھی تک نہیں چھوڑاہے) ایک مہینے تک علاج معالجہ کروا کر وہ ٹھیک ہوگیا، مگر لڑکی اب بھی بضد تھی کہ مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا ہے ، اس لئے وہ اسےاپنے اوپر قدرت دینے سے انکاری تھی اور اب تقریبا ایک سال مکمل ہوچکا ہے، مگر تا حال بیوی اس کو نہیں چھوڑتی ہے، شوہر نے ایک دفعہ بھی صحبت نہیں کی ہے بوجہ بیوی کے نہ چھوڑنے کے (واضح رہے کہ شوہر صرف ابتدائی مہینے تک ہمبستری نہیں کرسکتا تھا، مگر ایک مہینے تک بالکل تندرست ہوگیا )اور نہ اس نے اسے قدرت دی، لڑکی کا کہنا ہے کہ مجھے یہ شوہر پسند نہیں ہے ،اس لئے میں اس کو ہمبستری کرنے نہیں دیتی ہوں اور کبھی دوں گی بھی نہیں ،بس مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا ہےکسی بھی صورت میں، بس مجھے طلاق دے کر آزاد کر دے ،حالانکہ نکاح رضامندی سے ہوا تھا، اب شوہر اس صورتحال میں کیا کرے؟
اس وقت شوہر کسی دوسرے شہر میں ملازمت کرتا ہے اور گھر بھی نہیں آتا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ بیوی اسے تنگ کرتی ہے اور کہتی ہے مجھے طلاق دے کر آزاد کر دے ،مگر شوہر ایسا کرنا نہیں چاہتا۔اس لڑکی کو اس عرصے میں شوہر نے سمجھایا، بھائیوں نے سمجھایا، والدین نے ,شوہر کے والدین نے، مگر سب بے سود۔اب پوچھنا یہ ہے کہ شوہر کیا کرے،اسے طلاق دے کر آزاد کر دے یا کوئی اور حکم ہے ؟
شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔جزاکم اللہ خیرا
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ شوہر مسمی زید اگر علاج و معالجہ کے بعد اب صحت مند اور جماع پر قادر ہو گیا ہو ،لیکن اس کے باوجود بیوی شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہیں دے رہی ہو اور شوہر کو بلا وجہ تنگ کرتی ہو اور طلاق کا مطالبہ کرتی ہو،تو اس کا یہ عمل شرعاً جائزنہیں ، اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل اور ناجائز مطالبہ سے باز آجائے اور اپنا گھر آباد کرنے کی فکر کرے، لیکن اگر ہر ممکن کوشش اور سمجھانے کے باوجود وہ اپنے ناجائز مطالبہ سے باز نہ آئے اور طلاق کا مطالبہ برقرار رکھے اور آپس کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو، تو ایسی مجبوری کی صورت میں شوہر اس کو ایک طلاق دیکر اپنے نکاح سے آزاد کر سکتا ہے اور اس صورت میں شوہر گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ " إذا دعا الرجل امرأتہ إلی فراشہ فأبت، فبات غضبانا، لعنتھا الملئکۃ حتی تصبح اھ (کتاب النکاح باب عشرۃ النساء ج 2 صـ 25 ط: بشری)
وفی الدر المختار: (إلا لحاجۃ) کریبۃ و کبر(إلی قولہ) معناہ أن الشارع ترک ھذا الأصل فأباحہ، بل یستحب لو مؤذیۃ أو تارکۃ الصلاۃ (إلی قولہ) وترکھا حتی تمضی عدتھا(أحسن) بالنسبۃ إلی البعض الآخر الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 231-227 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ أی القدرۃ علی وطء) أی الاعتدال فی التوقان ان لا یکون بالمعنی المار فی الواجب والفرض وھو شدۃ الإشتیاق، وأن لا یکون فی غایۃ الفتور کالعنین (إلی قولہ) وفی البحر والمراد القدرۃ علی وطء الخ (کتاب النکاح ج3 صـ 7 ط: سعید)