السلام علیکم جناب مفتی صاحب! میرا نام انمول بنتِ مختار احمد ہے ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی 6 سال پہلے ہوئی تھی، میرے شوہر کا نا م محمد طلحہ ولد محمد صادق ہے جو ملتان کا رہائشی ہے ، میں ملتان میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی ، ان 6 سالوں میں بہت سے دکھ سکھ ، لڑائی جھگڑے دیکھے ہیں ، شادی کے تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد دورانِ لڑائی میرے شوہر محمد طلحہ نے مجھے طلاقیں دیں ،میں نے اپنے والدین کو اطلاع کر کے کراچی سے ملتان بلوایا میرے والدین آئے، انہوں نے میرے سسرال کی فیملی کے بیچ بیٹھ کر میرے شوہر طلحہ سے واقعہ طلاق کا پوچھا تو میرے شوہر نے پوری فیملی کے سامنے طلاق کی ہاں بھرتے ہوئے کہا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں ،جبکہ میں ہوش و حواس میں یہ کہتی رہی کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں ،لیکن اس نے قسمیں کھا کر کہا کہ میں نے صرف دو طلاقیں دی ہیں، آخر کار میرے والد میرے شوہر طلحہ کو لے کر مفتی کے پاس گئے، وہاں میرے شوہر نے مسجد میں قسم کھا کر کہا کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں جس سے مکمل طلاق واقع نہیں ہوتی۔
اس بیان کے بعد میرے والد نے تجدیدِ نکاح کا مسئلہ حل کروا کر مجھے میرے شوہر کے پاس ہی چھوڑ کر کراچی آگئے، اب گزشتہ دن بروزِ بدھ مورخہ 24-1-17 کو واٹس ایپ میسج کے ذریعے مجھے تین دفعہ پھر سے طلاق لکھ کر بھیج دی جس کے الفاظ یوں ہیں"انمول میں تجھے طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں، آج کے بعد تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں "
براہِ مہربانی شریعت کے حساب سے بتایا جائے کہ اس صورتِ حال میں مجھ پر طلاق واقع ہوئی اور اگر ہوئی تو میری عدت کیسے ہوگی اس کا طریقہ بتا دیا جائے ، براہِ مہربانی مجھے رجسٹرڈ فتوی دیا جائے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو تو سائلہ کے شوہر کے بقول جب اس نے کچھ عرصہ قبل دو صریح طلاقیں دیں او دورانِ عدت رجوع یا تجدیدِ نکاح کر لینے کے بعد حالیہ واقعہ میں بذریعہ واٹس ایپ مزید تین طلاقیں دیدی ہیں (جیسا کہ منسلکہ تحریر سے معلوم ہورہا ہے) تو اس سے سائلہ پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
و فی الدر المختار: (فروع (کرر لفظ الطلاق وقع الکل، وإن نوی التأکید دین الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 293 ط: سعید)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)
و فی رد المحتار: تحت (قولہ لا رجعۃ فیہ) فلو تخلل (إلی قولہ) إن کانت بالقول أو نحو القبلۃ أو اللمس عن شھوۃ الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 233 ط: سعید)