میری بیوی کو اپنے گھر جانا تھا تو شوہر نے اجازت دی پھر بیوی نے زیادہ دن اپنی والدہ کے گھر رہنے کا کہا تو شوہر نے غصے میں آکر بولا ٹھیک ہے وہی اپنے ماں باپ کے گھر پر رہ لینا ، تو بیوی نے بولا کہ اگر ایسی بات ہے تو مجھے طلاق دے دو میں گھر بیٹھ جاؤں گی ، تو شوہر نے افسوس والے انداز کےآواز میں بولا ( اچھا ٹھیک ) شوہر نے طلاق کی نیت نہیں کی بس ویسے ہی اپنی بیوی کے منہ سے طلاق کے الفاظ سن کر شوہر نے بولا (اچھا ٹھیک) یعنی تم اب طلاق کی بات کر رہی ہو ،اب فتوی کیا ہے شوہر کا ان الفاظ سے طلاق ہوجائےگی ؟جبکہ طلاق کا ارادہ نہ تھا بس افسوس اور غم اور غصہ کی وجہ سے تھا بعد میں بیوی نے کہا کہ میں مذاق کررہی تھی۔
مزید وضاحت شوہر کا مذکور الفاظ "وہی اپنے ماں باپ کے گھر پر رہ لینا "سے طلاق کی نیت نہیں تھی ۔
سائل نے اگر بیوی کو اس واقعہ سے قبل یا بعد میں کوئی طلاق نہ دی ہو، تو حالیہ واقعہ میں شوہر کا بیوی کے "ٹھیک ہے پھر مجھے طلاق دے دو الخ" کے جواب میں فقط افسوس کا اظہار کرتے ہوئے "اچھا ٹھیک "یعنی اب تم طلاق مانگ رہی ہو،کہنے سے اور بغیر نیتِ طلاق "وہی اپنی ماں کے گھر رہ لینا"کے الفاظ استعمال کرنے سے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے،تاہم آئندہ کے لیے میاں وبیوی کو اس طرح طلاق کے متعلق بحث ومباحثہ کرنے سے احتراز واحتیاط چاہیئے،تاکہ مستقبل میں ندامت وپریشانی کا سامنا نہ ہو۔
کما فی الھندیۃ: ولو قالت طالق فقال نعم طلقت ولو قالہ فی جواب طلقنی لاتطلق وإن نوی الخ (ج1 ص356 کتاب الطلاق الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ط: ماجدیہ)۔