میں نے اپنی بیوی کو کہا وائس میسج کے ذریعے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میری طلاق دینے کی نیت یہ تھی کہ میں ایک طلاق دوں۔
واضح ہوکہ طلاق کے صریح اور واضح الفاظ استعمال کرتے وقت نیت کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ، بلکہ الفاظ طلاق کے مطابق بلانیت طلاق بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا سائل نے جب وائس میسج میں اپنی بیوی کو رخصتی و خلوت صحیحہ کے بعد تین بارطلاق کے الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہہ دئیے، اگر چہ ایک طلاق دینے کی نیت سے کہے ہوں، تب بھی ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اس لیے میاں وبیوی پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعدد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کمافی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا اھ (کتاب الطلاق الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين اھ (باب طلاق غیر مدخول بہا ج3 ص293 ط: سعید )۔واللہ اعلم