السلام علیکم ! سائل اچھا لکھا پڑھا ہے ،اور دینی معلومات اور اسکی پریکٹس کرتا ہے ، اور روزانہ بیان بھی سنتے ہیں میاں بیوی ، دینی بات بیگم سےبھی شئیر ہوتی ، زوجیت کے حقوق بھی اچھے سے ادا کرتا ہے ، اچھی آمدن ہے ،تو الحمدللہ گھر والوں سے لے کر سسرال والوں سے بھی اچھا تعاون کرلیتا ہے ، سائل کی زوجہ سائل کی زیادہ وقت توجہ اور تعریف مانگتی ہے جبکے سائل نوکری کی وجہ سے دن میں مصروف اور رات کو تھکا ہوا آتا ہے لیکن ہفتہ اور اتوار مکمل چھٹی ہوتی تو گھومنے بھی سب بھائیوں سے زیادہ اپنی بیگم کو لے جاتا ہوں اور بھر پور حقوق زوجیت بھی ادا ہوتے ہیں ، گھر میں اور بھائیوں کی بیویاں بھی ہیں تو عورتوں کی چالاکیوں میں سائل کی زوجہ( عمر 18 سال تعلیم 10 اور شوہر تعلیم 16اور 29سال میں شادی ہوئی تھی ) زوجہ کم عمر ہونے کی وجہ سے جو کام کرتی ہے اسکو جتا نہیں پاتی تو اسکی تعریف کوئی اور بھابھی سمیٹ لیتی ہے ،تو زوجہ کا تعریف کا حق مارا جاتا ہےپھر شوہر کو بتاتی ہے تو شوہر بولتا ہے یہ غیبت ہے اپنے معاملات خود ہینڈل کریں گھر میں بڑے ماں باپ موجود ہیں ان کو بولیں ، سائل یعنی شوہر میں ایک اور مسئلہ ہے وہ ماں باپ سے ہوئی کوئی بات آتی تو بولتا ہےتم نے یہ کیوں بتایا ،اس حالت میں زوجہ کی اپنی اسکول دوست کے کزن سے بات شروع ہو گئی موبائل پر وہ تعریفیں کرتا بات سنتا (شاید اس لئے کے وہ بھی کم عمر اور فارغ ہوتا ہو) ، زوجہ کو اس تعریف میں مزہ آنے لگا اور روزانہ مرد کے کام پر جانے کے بعد رابطہ ہوتا رہا ، لیکن ہفتہ اتوار رابطہ نہیں کرتی کے شوہر گھر میں ہوتا ہے،موبائل دیا وقت کی ضرورت سمجھ کر ' اس پر بیگم صاحبہ تصویریں بھیجتیں اس غیر محرم کو ' اور ان تعلقات کی بھنک تک لگنے نہ دی شوہر کو 2/3 سال ، حالانکہ مرد ہر ہفتے فارغ وقت بیگم کا موبائل چیک کرتا کہ کہیں کوئ پریشان کر رہا ہو اور بیگم بتانے سے ڈر رہی ہو ،لیکن بیگم وہ بات چیت کے میسیجز وغیرہ ڈیلیٹ کردیتی تھی، اس نعمت کا اتنا ناجائز استعمال ہوا کے بات زنا تک پہنچ گئی ،اس سے ایک قدم اور آگے ،دو دفعہ زنا کے فعل میں مبتلا ہوئی اور اسکی ویڈیو خود بنائی ، یہ فعل جب ہوا جب مرد اپنی زندگی کے پہلے چلے یعنی ( 40 ) دن پر گیا تھا ،حالانکہ سائل جب بھی حق زوجیت ادا کرتا تو لائٹ بند اور موبائل دور رکھتا کے بعد میں یہ ویڈیوز عذاب بنا دیتی ہےزندگیاں ، ابھی یہ بات صرف 1 بندے شوہر تک پہنچی ہے ،سائل بہت پریشانی میں ہے ، سائل تو مالی طور پر مضبوط ہے اور اسکی خواہش بھی ہے اور اسکا اظہار بھی کیا ہے کے وہ بے سہارہ سے شادی کرنے کو تیار ہے تھوڑا سوشل کیڑا ہے سائل میں مالی مضبوطی بھی ہے تو یہ خواہش کئی بار بیگم سے بھی کری ہے ، لیکن اللہ گواہ ہے سائل نے جب سنگل تھا تب سے آج تک کبھی زنا نہیں کیا ، زوجہ کے والد مرگئے اور اسکی ماں زندہ ہے بھائیوں کے پاس اپنے گز ربسر کے لئے پیسے نہیں ہوتے ، سائل اس صورت میں بیگم چھوڑ دے کہ وہ زنا کر چکی ، جبکہ اب وہ بول رہی ہےتوبہ اب آگے ایسا نہیں ہو گا ،لیکن سائل کیسے یقین کرے کے اسکے 7 سال کے رشتے میں بیگم اسکی اپنی نہیں ہوسکی 6 سال بعدجا کر یہ حرکت کر رہی ہے ، 2 بچے ہیں اور ابھی 4 ماہ کا حمل بھی ہے . زوجہ کا کہنا ہے زنا کے بعد کئی ماہواریاں ہوئی ہیں تو یہ حمل آپکا ہے ، سائل فقہ حنفی پر چلنے والا ہے اس صورت میں اسلام کیا بولتا خدا را اللہ کو حاضر جان کر جو حکم ہے وہ بتائیں تاکہ آخرت صحیح ہو ، اور پلیز کسی کو نہ بتانا ۔شکریہ !
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی نے اجنبی مرد سے ناجائز تعلقات استوار کرتے ہوئے ، زنا جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کیا ہو، تو اس کا یہ فعل انتہائی معیوب اور شرعاً ناجائز و حرام ہے ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے ، اگر اسلامی سزائیں نافذ العمل ہوتی تو اس کے اقرار یا حجت شرعیہ سے ثبوت کے بعد اس پر رجم کی سزا جاری کی جاتی ، لہذا سائل کی بیوی پر اپنے اس عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے ، تاہم اب اگر بیوی اپنے فعل پر نادم ہو ، اور آئندہ کے لئے ایسے امور سے دور رہنے کا عزم کرتی ہو ، نیز سائل کو بھی اس کی توبہ اور مستقبل میں ایسے رذائل کا ارتکاب نہ کرنے کا یقین ہو ، تو ایسی صورت میں سائل بیوی کو اپنے عقد میں رکھ کر دونوں کا میاں و بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : و الذین اذا فعلوا فاحشۃ أو ظلموا أنفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم و من یغفر الذنوب اللہ و لم یصروا علیٰ ما فعلوا و ھم یعلمون الآیۃ ( آل عمران آیت 135 ) ۔
و فی سنن ابن ماجۃ : عن ابن مسعود : قال : قال رسول اللہ ﷺ " التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ " ( ج 1 ، رقم الحدیث 425 ) ۔
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ لا یجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ) و لا علیھا تسریح الفاجر الا اذا خافا أن لا یقیما حدود اللہ فلا بأس أن یتفرقا اھ مجتبی و الفجور یعم الزنا و غیرہ الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج 6 ، ص 427، ط : سعید ) ۔ واللہ اعلم