میرے بہنوئی رفیع اللہ ولد حضرت محمد نے اپنی منکوحہ مدخول بھا بیوی سمیہ بنت سید افضل (جو میری بہن ہے) کو تین طلاق اپنے گھروالوں کے سامنے دی تھی ، پھر جب ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے تین طلاق مکمل دی ہے یا کچھ رجوع کے الفاظ بولے ہیں ؟ تو اس لڑکے رفیع اللہ کے والد نے جب دوبارہ اسے بلایا تو اس نے یہ مذکور چارگواہوں (۔۔۔۔۔۔ )کے سامنے پھر الگ سے تین دفعہ طلاق دے کر کہا کہ مجھ سے بلکل فارغ اور بائن ہے، لہذا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس کے اس طرح کہنے سے تین طلاق ہو گئی ہے اور میری بہن عدت کے لئے اس کے نکاح سے فارغ ہے ، اب طلاق کی صورت میں حق مہر کا کیا حکم ہے ؟ جرگےکے سامنے وہ حلالہ کرانے کے لئے بھی راضی ہو گیا تھا ، الفاظ طلاق یہ تھے "تہ پہ ما طلاقہ ئے " تم مجھ ہر طلاق ہو ، تین مرتبہ کہا تھا ، اور یہی الفاظ جرگے کے سامنے بھی تین مرتبہ دھرائے ، اب شریعت محمدی کے روشنی میں ہمیں تفصیلی فتوی دیا جائے ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مسمی رفیع اللہ ولد حضرت محمد نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تہ پہ ما طلاقہ ئے "(تم مجھ پر طلاق ہو)تین مرتبہ کہہ دیئے ہوں تو اس سے شخص مذکور کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، نیز اگر مذکور شخص نے ابھی تک بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ فوراً حق مہر ادا کرے ، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوج اول کے لئے عورت حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے ، اور اس پر احادث مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ الایۃ(بقرہ۔آیۃ 230)۔
وفی اعلاء السنن:عن عائشۃ قالت: جائت امراۃ رفاعۃ القرظی الی النبیﷺ فقالت:کنت عند رفاعۃ فطلقنی فبت طلاقی،فتزوجت بعدہ عبد الرحمن ابن زبیر(الی قولھا)فقالﷺ:اتریدین ان ترجعی الی رفاعہ؟لا!حتی تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک الخ(ج 11 ص 213)۔
کما فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (فصل۔حکم الطلاق الثلاث ۔ج 3 ص 187)۔
وفی الدر المختار: ویتاکد (عند وطء او خلوۃ صحت)من الزوج (او موت احدھما ) الخ (باب۔ المھر۔ج 3 ص 102 )۔