السلام علیکم ! میں اپنے رشتے کے بارے میں وسوسہ کا شکار ہوں، میرے ذہن میں ہر وقت بُرے خیالات آتے رہتے ہیں ، اور بعض اوقات مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر وسوسے کے دباؤ کی وجہ سے میں ان کو غیر ارادی طور پر کہہ دوں تو کیا ہوگا؟ برائے مہربانی میری رہنمائی کریں کہ میں اس صورتحال پر کیسے قابو پا سکتا ہوں؟ اللہ آپ کو میری مدد کا اجر دے گا ۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اسے اپنے رشتہ کے بارے میں کیا وساوس پیش آتے ہیں ، تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کو اپنی بیوی سے متعلق طلاق کے وساوس آتے ہوں ، تو جاننا چاہیئے کہ وقوعِ طلاق کےلئے الفاظِ طلاق کا تلفظ کرنا ضروری ہے ، بغیر الفاظ کہے محض طلاق کا خیال یا وسوسہ آنے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ، لہٰذا سائل کے ذہن میں فقط طلاق کے بُرے خیالات آنے سے اس کی منکوحہ پر اگرچہ کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ، بشرطیکہ زبان سے واضح طور پر طلاق کے الفاظ ادا نہ کرے ، تاہم سائل کو چاہیئے کہ اس قسم کے خیالات و تصورات کی طرف زیادہ توجہ دینے اور اس میں پڑنے کے بجائے کسی دوسرے کام میں خود کو مشغول کردیاکرے ، تاکہ اس وساوس کی بیماری کا سدِ باب ہوسکے ، اور ایسے موقع پر " لاحول و لاقوۃ الا باللہ " کا ورد کرنا بھی مفید ہوگا ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قوله و ركنه لفظ مخصوص ) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي ، وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره اھ ( ج 3 ، صـــ 230 ، ط : سعید ) واللہ اعلم