میرا سوال یہ ہے کہ کچھ گھریلو حالات کی وجہ سے میری زوجہ کا مجھ سے ہر وقت جھگڑا رہتا تھا، اسی مسئلے کی وجہ سے میں نے اپنی زوجہ کو میکے بھیج دیا ، میں نے سوچا کہ کچھ دن الگ رہیں گے تو غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا، کچھ دنوں بعد میرے گھر والوں نے میری زوجہ کے ماموں سے رابطہ کیا اور مسئلے کو بیٹھ کر حل کرنے کو کہا ، لیکن یہ لوگ اس مسئلے کو 15 ماہ تک چلاتے رہے اور بہت سے لوگوں نے اس معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی، لیکن لڑکی کی طرف سے کوئی خاص جواب نہیں آیا اورکوئی نتیجہ نہیں نکلا، بالآخر میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کر لی، لیکن آپ کی بیوی شاید آپ سے علیحدگی چاہتی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں تھا ، اور میں زوجہ کو چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا، کیونکہ ہماری ایک 5 سال کی بیٹی ہے، کافی دن گزرنے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ طلاق لکھ کر بھیج دو، اس ٹائم میری بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور گھر والوں کا دباؤ تھا کہ طلاق دو ، جب طلاق نامہ اسٹامپ پیپر پر لکھوایا تو میرے ذہن میں یہی تھا کہ 1 مرتبہ طلاق لکھ کر بھجوا دوں گا، لیکن گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا نہ کر پایا، لیکن اس میں میں نے طلاق کو تاریخ کے ساتھ مشروط کر دیا کہ اگر آپ اس تاریخ تک شوہر کے گھر آجاتی ہیں تو طلاق لاگو نہیں ہو گی، اور میں اس پر پُر اعتماد تھا کہ زوجہ اس تاریخ تک آ جائے گی، لیکن ایسا نہ ہوا، اب میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید زوجہ نے طلاق نامہ نہ پڑھا ہو، اور اس کے گھر والوں نے کہا ہو کہ آپ کو 3 طلاق ہوگئیں ہیں ، لیکن میں اپنی بیوی کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا، لیکن میں اپنے خاندان کو نہیں چھوڑ سکتا تھا، اس لئے مجھے یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر یہ لڑکی واپس آگئی تو آپ کو اس طرح ہراساں کرے گی، یعنی میرے دل میں خوف بٹھا دیا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ میرے اس عمل سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟کیا میں اس لڑکی سے حلالہ کے بغیر شادی کرسکتا ہوں یا نہیں؟لیکن مجھے ابھی تک لڑکی کے ارادوں کا علم نہیں ہے ، میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں-
نوٹ! سائل نے اسٹامپ پیپر پر تین طلاقیں لکھی ہیں۔
منسلکہ طلاق نامہ اگر سائل کی بیوی کو موصول ہوچکا تھا اور بیوی نے مذکور تحریر پڑھ لی تھی ، اس کے باوجود وہ مذکور تاریخ تک سائل کے گھر نہیں آئی، تو اس سے اس پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة ( الی قولہ ) متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 355 ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ۱ ص ۴۷۳ ط: ماجدیہ) ۔
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک و زوال حل المحلیۃ ایضاً حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ ( کتاب الطلاق ج 3 ص 187 )۔